Tuesday, February 03, 2026 | 15, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی کےبعد اجلاس دن بھرکےلئےملتوی

لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی کےبعد اجلاس دن بھرکےلئےملتوی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 03, 2026 IST

لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی کےبعد اجلاس دن بھرکےلئےملتوی
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کےدوران بدھ کو لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ایوان میں نظم بحال نہیں ہونے پر  کرسی صدارت نے اجلاس کو  دن بھر کےلئے ملتوی کر دیا۔ اس سے پہلے کرسی صدارت نےہنگامہ  آرائی کےالزام میں 8 اپوزیشن ارکان کو معطل کر دیا۔ اسی دوران  کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن ارکان نے ایوان کے احاطہ میں احتجاج کیا۔

ایوان سے8اپوزیشن ارکان معطل 

اس سے پہلے کرسی صدارت  کی طرف کاغذات پھینکے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ اس معاملے پرکرسی صدارت نے  اپوزیشن کے 8 ارکان پارلیمنٹ جن میں ہیبی ایڈن، امریندر سنگھ، راجہ وارنگ ،مانیکم ٹیگور، گرجیت سنگھ ، کرن کمار ریڈی، پرشانت پاڈالا، ایس وینکٹیش اور ڈین کوریاکوس شامل ہیں ۔ان ارکان کو اس سیشن کے بقیہ دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ ان اپوزیشن ارکان پر الزام ہےکہ وہ ایوان  کی کاروائی چلانے میں خلل ڈال رہے تھے۔ اور ساتھ ہی کاغذات کرسی صارت پر پھینکا گیا۔ اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کرسی صدارت نےاس طرز عمل کو پارلیمانی ضابطے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ اور زور دے کر کہا کہ  بجٹ اجلاس کےدوران اس  رویہ کو برداشت نہیں کیا جائےگا۔

 بی جے پی ٹھوس کاروائی پر دیا زور 

ایوان کی کاروئی ملتوی ہونے کےبعد بی جےپی ارکان پارلیمنٹ  نے کہاکہ اپوزیشن کی طرف سے مسلسل رکاوٹیں بدتمیزی  بڑھ گئیں ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ ایوان کےوقار کو برقرار رکھنے کےلئے ٹھوس اقدام ضروری ہے۔ بی جے پی  نے مزید اعلان کیا کہ وہ لوک سبھا اسپیکر کےساتھ اس خڑابی اور مبینہ واقعے کی بارے میں شکاریت کریں گے ۔

 ارکان کی معطلی پر کانگریس کی مذمت 

 ادھر کانگریس نے ایوان سے اپوزیشن ارکان کو معطل کرنے کی مذمت کی ۔ا ور پارلیمنٹ کےاحاطہ میں احتجاج کیا ۔ انھوں نے حکومت کے خلاف  نعرے لگاتے ہوئے "مودی سرنڈر !" اور "مودی حکومت نیچے!"اور "چین کا نریندر مودی" اور "کاشتکار مخالف" ہونے کا الزام لگایا۔ انھوں نے "مودی حکومت  کی جانب سے  ٹرمپ کی طر ف جھاؤ  کا الزام لگایا۔ احتجاجی ارکان نے  شہنشایت نہیں چلے گی، بی جےپی ہائے  ہائے کے نعرے لگائے۔ احتجاجیوں نے  اسپیکرپر جمہوری آواز کو  دبانے کا الزام لگایا۔ انھوں نے  اسپیکر نے فریاد کی۔

ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے پر راہل کا ردعمل

امریکہ اور بھارت کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے پر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ردعمل دیا۔ انہوں نے وزیراعظم مودی پر ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے جھکنے کا الزام لگایا۔ راہل نے پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایپسٹین فائل کیس کی وجہ سے وزیر اعظم مودی شدید دباؤ میں ہیں۔ راہل نے کہا کہ مودی امریکہ میں اڈانی کے خلاف چل رہے کیس کے پس منظر میں بھی پریشان ہیں۔ گاندھی نے کہا کہ مودی جی خوفزدہ ہیں، تجارتی معاہدہ چار ماہ سے تعطل کا شکار ہے، کچھ وجوہات کے علاوہ کچھ نہیں بدلا، اور کل شام اس معاہدے پر دستخط ہوئے۔

 نریندر مودی پر شدید دباؤ: راہل 

راہل نے کہا کہ نریندر مودی پر شدید دباؤ ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مودی کی تصویر کا غبارہ ہزاروں کروڑ کا ہے اور یہ کسی بھی وقت پھٹ جائے گا۔ انہوں نے ہمارے وزیر اعظم پر امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے لوگوں کو اس کے بارے میں سوچنا چاہئے، ہندوستانی کسانوں کو اس سودے کے بارے میں سوچنا چاہئے، اور یہ کہ مودی آپ کی محنت، خون اور پسینہ بیچ رہے ہیں۔ نہ صرف کسان۔ راہل نے کہا کہ اس نے پورا ملک بیچ دیا ہے، اسی لیے انہیں ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔