پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا میں ، امراوتی کو آندھرا پردیش کا واحد اور مستقل دارالحکومت قرار دینے والا بل منظور کر لیا گیا۔ یہ بل بدھ کے روز وائس ووٹ کے ذریعے پاس کیا گیا۔ بیشتر سیاسی جماعتوں نے بل کی حمایت کی۔ اسی دوران اےپی کی اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے کسانوں سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے ٹائم لائن شامل نہ ہونے پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔پارٹی کا کہنا تھا کہ امراؤتی کی تعمیر کے لیے زمین دینے والے کسانوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو مقررہ مدت میں پورا کیا جانا چاہیے تھا۔ بل کی منظوری کے بعد امراؤتی کو ریاست کا واحد دارالحکومت بنانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اب اس بل کو راجیہ سبھا میں پیش کیا جائےگا۔
امراوتی ہی ریاست کا واحد دارالحکومت:سی ایم
آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ ، این چندر ابابو نائیڈو نے واضح کیا ہے کہ ، امراوتی ہی ریاست کا واحد دارالحکومت رہے گا۔ اور اب راجدھانی کو کسی بھی صورت منتقل نہیں کیا جا سکے گا۔ نیلور ضلع میں ’پیدالا سیوالو‘ پروگرام میں وزیر اعلی نے شرکت کی۔اس دوران عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسمبلی پہلے ہی امراؤتی کو قانونی درجہ دینے کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔چندرابابو نائیڈو نے سابق وائی سی پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سال 2019 سے 2024 کے دوران تین دارالحکومتوں کے فارمولے نے ریاست میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی اور ترقی متاثر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت امراؤتی کو مستحکم اور ترقی یافتہ دارالحکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
نارا لوکیش نے کیا خوشی کا اظہار
نا را لوکیش نے امراوتی کو قانونی درجہ دینے والے بل کی لوک سبھا میں منظوری پر خوشی کا اظہار کیا ۔ریاستی وزیر لوکیش نے اس موقع کو ’ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امراؤتی کا خواب آج پارلیمنٹ میں حقیقت بن گیا ہے۔ انہوں نے بل کی منظوری کو ٹی وی پر دیکھا ۔اور اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیا۔وزیر مملکت ، نتیا نند رائے نے آندھرا پردیش ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 ایوان میں پیش کیا۔ اطلاعات کے مطابق نارا لوکیش آج رات دہلی روانہ ہوں گے۔جہاں وہ بل کی حمایت کرنے والے اراکین پارلیمنٹ اور مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کریں گے۔ذرائع کے مطابق وہ راجیہ سبھا میں بل پر ہونے والی بحث کے دوران بھی دہلی میں موجود رہیں گے۔جس سے ان کے دورے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
چندارابابو حکومت ڈامہ کمپنی
وائی ایس آر سی پی کے صدر نے ، تاڑے پلی میں واقع کے پارٹی کے مرکزی دفتر میں میڈیا سے گفتگو کی ۔وائی ایس جگن نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ نائیڈو پر سخت تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ چندرابابو نائیڈو کی قیادت میں حکومت ایک ’ڈراما کمپنی‘ کی طرح کام کر رہی ہے ۔اور ان کا وزیر اعلیٰ بننا ریاستی عوام کی بدقسمتی ہے۔ جگن موہن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت بدعنوانیوں میں ملوث ہے اور عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ، وائی ایس آر کانگریس پارٹی نہ صرف امراوتی بلکہ ریاست کے کسی بھی علاقے کے خلاف نہیں ہے۔
کسانوں سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے
وائی ایس جگن موہن ریڈی کا کہنا ہے کہ امراوتی کے لیے زمین دینے والے کسانوں سے کیے گئے وعدے ابھی تک پورے نہیں کیے گئے۔ ۔ان کا کہنا تھا کہ بنیادی سہولیات جیسے ڈرینیج، سڑکیں، بجلی اور پانی کی فراہمی پر فی ایکڑ تقریباً دو کروڑ روپے خرچ آئیں گے۔۔اپوزیشن لیڈر نے دعویٰ کیا کہ 50 ہزار ایکڑ اراضی کی ترقی کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے درکار ہوں گے۔جبکہ مزید 50 ہزار ایکڑ حاصل کرنے سے مجموعی لاگت دو لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔جگن موہن ریڈی نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی ۔اور اس منصوبے کو مکمل ہونے میں کتنے سال لگیں گے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وقت کے ساتھ اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
وائی سی پی ارکان پارلیمنٹ کا واک آوٹ
امراوتی کو اے پی کی راجدھانی کے طور پر تسلیم کرنے کے قانونی بل سے متعلق ایک قرارداد لوک سبھا میں منظور کی گئی۔ تاہم وائی ایس آر سی پی کے ارکان پارلیمنٹ نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائی ایس آر سی پی رکن پارلیمنٹ متھن ریڈی نے کہا کہ وہ بل کی موجودہ شکل کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ دارالحکومت کب تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کے لیے کسانوں سے تقریباً 54 ہزار ایکڑ اراضی جمع کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ، نہ تو امراؤتی کے خلاف ہے۔اور نہ ہی ریاست کے کسی دوسرے علاقے کے خلاف۔لیکن صرف نام کے ساتھ بل پیش کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔مِتھن ریڈی نے مطالبہ کیا کہ امراؤتی کے لیے زمین دینے والے کسانوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اور حکومت واضح کرے کہ منصوبے کی جملہ لاگت کتنی ہوگی اور اسے مکمل کرنے کی ٹائم لائن کیا ہے۔
بی جے پی کا اظہار افسوس
بی جے پی کے رکن دگوبتی پورندیشوری نے افسوس کا اظہار کیا کہ اے پی نے ریاست کی تقسیم کے بعد دارالحکومت کے بغیر ایک ریاست کے طور پر اپنا اقتدار شروع کیا۔ انہوں نے یاد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس دن امراوتی کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ انہوں نے وائی ایس آر سی پی حکومت کے دوران دارالحکومت کے مسئلہ میں عدم استحکام پر تنقید کی۔ پورندیشوری نے واضح کیا کہ 29 ہزار کسانوں نے رضاکارانہ طور پر امراوتی کے لیے اپنی زمینیں دی ہیں اور امراوتی اے پی کی مستقل راجدھانی ہوگی۔