لکھنؤ یونیورسٹی کے کیمپس میں واقع لال بارہ دری مسجد کے داخلی دروازے کو مبینہ طور پر بند کردیا گیا۔ جس کے بعد طلبہ کا احتجاج دیکھنے میں آیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مسجد کو لاک کردیے جانے اور راستے پر بیریکیڈ لگانے کی اطلاعات ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مسلم طلبہ کو مسجد کے باہر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اسی بیچ ایک خوشنما منظر بھی دیکھنے کو ملا۔
یونیورسٹی کے ہندو طلبہ نے نماز ادا کر رہے طلباء کی حفاظت کی اور اُن کے اطراف ایک حصار نما انسانی زنجیر بنادی تھی۔ اپنے مسلم ساتھی طلبا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور ہندو طلبا نے انسانی زنجیر بنادی تھی۔ طلبہ کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ کیمپس میں موجود لال بارہ دری مسجد ایک قدیم عبادت گاہ ہے۔ جہاں باقاعدہ نماز ادا کی جاتی رہی ہے، اور اسے اچانک بند کیے جانے پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
احتجاج کے پیشِ نظر یونیورسٹی کیمپس میں کئی تھانوں کی پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس موقع پر موجود رہی۔ پولیس کے سمجھانے پر طلبہ پُرامن ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ بارہ دری کے گرد باڑ لگانے کا کام کروا رہی ہے، جس پر پہلے ہی مخالفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ رجسٹرار نے سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے پیشگی طور پر پولیس کو درخواست دے کر اضافی نفری طلب کی تھی۔
مسجد میں تالا لگائے جانے کے بعد مسلم طلبہ نے باہر نماز ادا کی۔ اس دوران ہندو طلبہ نے ہاتھ جوڑ کر اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر پیچھے کھڑے ہو کر حفاظتی حصار بنایا۔ نماز کے وقت کا یہ منظر کیمپس میں گفتگو کا موضوع بنا رہا۔
پورے واقعے کے دوران لال بارہ دری کے باہر طلبہ کی موجودگی، انتظامیہ کی جانب سے کی گئی بیریکیڈنگ اور پولیس فورس کی تعیناتی نے ماحول کو حساس بنائے رکھا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں بغیر اطلاع دیے مسجد کا دروازہ بند کیا گیا، جبکہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کیمپس کی باڑ بندی اور سیکیورٹی کے پیشِ نظر یہ اقدامات کیے گئے۔