• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • راجیہ سبھا نامزدگی مسترد ہونے پر میناکشی نٹراجن کا جواب، بی جے پی کے سازش کے الزامات کو قرار دیا بے بنیاد

راجیہ سبھا نامزدگی مسترد ہونے پر میناکشی نٹراجن کا جواب، بی جے پی کے سازش کے الزامات کو قرار دیا بے بنیاد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 21, 2026 IST

راجیہ سبھا نامزدگی مسترد ہونے پر میناکشی نٹراجن کا جواب، بی جے پی کے سازش کے الزامات کو قرار دیا بے بنیاد
حیدرآباد: کانگریس رہنما میناکشی نٹراجن نے راجیہ سبھا نامزدگی مسترد کیے جانے کے معاملے پر بی جے پی کی جانب سے لگائے گئے سازش کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کسی قسم کی کوئی سازش نہیں ہوئی، بلکہ بی جے پی خود جمہوری اقدار سے متعلق اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
 
پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے میناکشی نٹراجن نے کہا کہ اگر واقعی کوئی سازش ہوتی تو دو الگ الگ ریٹرننگ افسران معمولی وجوہات کی بنیاد پر ان کی نامزدگی کو مسترد نہ کرتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں جمہوری اصولوں کو کمزور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور بی جے پی ایسے الزامات کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔
 
نٹراجن نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کے پاس تیسری راجیہ سبھا نشست جیتنے کے لیے مطلوبہ اعداد و شمار سے دس ارکان کم تھے، اس کے باوجود پارٹی نے امیدوار میدان میں اتارا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سازش کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
 
واضح رہے کہ اس سے قبل میناکشی نٹراجن کی راجیہ سبھا نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس نے اندرونی سطح پر معاملے کی جانچ شروع کی تھی۔ الیکشن ریٹرننگ افسر نے ان کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایک زیرِ التوا قانونی نوٹس کی تفصیلات اپنے حلف نامے میں ظاہر نہیں کیں۔
 
یہ تنازع نارائن پیٹ کانگریس لیڈر کمبم شیوکمار ریڈی اور سری لتا کے درمیان مقامی قانونی معاملے سے جڑا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران سری لتا کی درخواست میں میناکشی نٹراجن کا نام شامل کیے جانے کے بعد عدالت کی جانب سے انہیں قانونی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
 
انتخابی قوانین کے مطابق، کسی بھی پارلیمانی انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے نامزدگی حلف نامے میں تمام زیرِ التوا قانونی نوٹس اور مقدمات کی مکمل معلومات فراہم کرے۔ اس عدالتی نوٹس کا ذکر نہ ہونے کی بنیاد پر ان کی نامزدگی کو چیلنج کیا گیا، جس کے بعد انتخابی عہدیداروں نے اسے مسترد کر دیا۔  اس معاملے نے تلنگانہ کی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں کانگریس اور بی جے پی ایک دوسرے پر سیاسی مقاصد کے تحت الزامات عائد کر رہی ہیں۔