• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران میں ممکنہ امریکی فوجی کاروائی پرغیر یقینی صورتحال برقرار

ایران میں ممکنہ امریکی فوجی کاروائی پرغیر یقینی صورتحال برقرار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jan 17, 2026 IST

ایران میں ممکنہ امریکی فوجی کاروائی پرغیر یقینی صورتحال برقرار
ایران میں ممکنہ امریکی فوجی کاروائی پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک بشمول سعودی عرب، مصر، عمان اور قطر نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پرعسکری کارروائی سے گریز کرے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فوجی کارروائی خطے کو غیر مستحکم کر سکتی ہے اور عالمی معیشت کو درہم برہم کر سکتی ہے۔
 
ایران پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے درمیان خلیجی خطے میں پسِ پردہ سفارت کاری تیز ہو گئی ہے۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی سخت دھمکیوں کے بعد کشیدگی کم کرنے کے لیے خفیہ رابطے شروع کر دیے ہیں۔ خطے کے قریبی امریکی اتحادی ہونے کے باوجود یہ ممالک ایران پر حملے کے ممکنہ اثرات کو لے کر شدید تشویش میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ کسی بھی فوجی اقدام کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ پیش ہے تفصیلی رپورٹ۔
 
وہیں دوسری طرف ایران کے معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ملک میں جاری احتجاجی لہر کے پس منظر میں ایران میں برسرِاقتدار نظام کے جلد خاتمے کے لیے فوجی حملوں کی اپیل کی ہے۔ اس نے ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کی خواہش کا اظہار کیا۔ رضا پہلوی (65 سال)، جن کے والد محمد رضا پہلوی کو 1979 میں اسلامی انقلاب کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا، نے گزشتہ جمعہ کو خود کو ملک میں اپوزیشن کا رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی اور اقتدار سنبھالنے کی خواہش ظاہر کی۔دسمبر کے آخر میں ایران میں شروع ہونے والے احتجاجات کے دوران پہلوی کا نام نمایاں طور پر سامنے آیا، اور گزشتہ ہفتے جب انہوں نے عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی تو مظاہرین نے ان کے حق میں نعرے بھی لگائے۔
 
 
میڈیا رپورٹ  کے مطابق موجودہ احتجاجات سے قبل ایرانی عوام پہلوی کو ایک غیر متوقع رہنما سمجھتے تھے، اور ان کے والد کو آمرانہ طرزِ حکومت، سیاسی مخالفین پر جبر، اور امریکہ کے تابع ہونے کے باعث ناپسند کیا جاتا تھا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پہلوی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دراصل موجودہ حکومت کے خلاف عوامی غصے کی عکاس ہے، لیکن بہت کم لوگ اسلامی انقلاب سے پہلے کے شاہی نظام کی واپسی کے حامی ہیں۔
 
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹے
 
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشن سے پیچھے ہٹتے نظر آ رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ امریکہ کے پاس اس وقت خطے میں اتنی فوجی صلاحیت نہیں کہ ایران پر حملہ کرے یا کسی ممکنہ جوابی کارروائی کا سامنا کر سکے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو کہا کہ انہوں نے ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب ایرانی حکام نے ان کے بقول 800 سزائے موت پر عملدرآمد منسوخ کر دیا۔ٹرمپ ماضی میں کئی بار ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں، حکومت کو مظاہرین کے خلاف تشدد سے خبردار کیا تھا، اور ایرانی عوام کو احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی ترغیب دی تھی۔