بھارتی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد شامی کو پیر کے روز کولکتہ کے جادوپور میں واقع ایک اسکول میں ایس آئی آر (اسپیشل انٹینسو ریویژن) کی تصدیق سے متعلق سماعت کے لیے بلایا گیا تھا۔ تاہم، اسی دن وہ راجکوٹ میں وجے ہزارے ٹرافی میں بنگال ٹیم کی نمائندگی کر رہے تھے، جس کی وجہ سے وہ سماعت میں شامل نہیں ہو سکے۔
حکام نے منگل کو بتایا کہ محمد شامی اور ان کے بھائی محمد کیف دونوں کو اس سماعت کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ محمد شامی نے الیکشن کمیشن سے نئی تاریخ دینے کی درخواست کی، جسے منظور کر لیا گیا ہے۔ اب ان کی سماعت 9 جنوری سے 11 جنوری کے درمیان ہوگی۔ محمد محمد شامی کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 93 کے ووٹر ہیں، جو راس بہاری اسمبلی حلقے کے تحت آتا ہے۔
چیف الیکشن آفیسر کا بیان
مغربی بنگال کے چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) کے دفتر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ شامی اور ان کے بھائی کی جانب سے بھرے گئے نام اندراج فارم میں کچھ غلطیاں پائی گئی تھیں۔ اسی وجہ سے دونوں کو تصدیقی سماعت کے لیے بلایا گیا تھا۔ اگرچہ محمد شامی کا تعلق اصل طور پر اتر پردیش سے ہے، لیکن اپنے کرکٹ کیریئر کی وجہ سے وہ کئی برسوں سے کولکتہ میں مقیم ہیں۔ وہ کم عمری میں ہی ککولکتہ آ گئے تھے، جہاں انہوں نے بنگال کے سابق رنجی کپتان سمبرن بنرجی کی رہنمائی میں تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں بنگال کی انڈر-22 ٹیم میں جگہ ملی۔
یہ معاملہ کیسے سامنے آیا
یہ پورا معاملہ مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسو ریویژن مہم کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس مہم کے تحت ووٹر لسٹ کو درست اور اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے دوران کئی مشہور شخصیات کو بھی عام ووٹروں کی طرح نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ محمد شامی کے علاوہ اداکار اور ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ دیو، اداکار جوڑی لابونی سرکار اور کوشک بندیوپادھیائے کے نام بھی اس عمل کے دوران سامنے آئے ہیں یا انہیں سماعت کے لیے بلایا گیا ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق، ایس آئی آر مہم کا مقصد ووٹر ریکارڈ کو درست کرنا اور مکمل طور پر شفاف بنانا ہے۔ اس عمل میں تمام ووٹروں کو، چاہے وہ عام شہری ہوں یا عوامی زندگی سے وابستہ شخصیات، تصدیقی قوانین کی پابندی کرنا لازمی ہے۔