• News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • ماتاویشنو دیوی کالج میں میڈیکل کورس منسوخ،بی جے پی اورسنگھرش سمیتی کا خیرمقدم

ماتاویشنو دیوی کالج میں میڈیکل کورس منسوخ،بی جے پی اورسنگھرش سمیتی کا خیرمقدم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 07, 2026 IST

  ماتاویشنو دیوی کالج میں میڈیکل کورس منسوخ،بی جے پی اورسنگھرش سمیتی کا خیرمقدم
جموں و کشمیر میں نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کی جانب سے ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کا درجہ منسوخ کردیا گیا۔ یعنی اس کالج میں  ایم بی بی ایس داخلہ نہیں ہوں گے۔ یہاں کےطلبا کو دیگر کالج  منتقل کر دیا جائےگا۔ بی جے پی نے اس فیصلہ خیرمقدم کیا ہے، جسے پارٹی کی اخلاقی جیت قرار دیا گیا۔ بی جے پی کے یوٹی صدر ست شرما نے کہا کہ کالج میں بنیادی ڈھانچے کی کمی اور تدریسی معیار میں خامیاں این ایم سی کے قواعد کے خلاف تھیں، اور تمام متاثرہ طلبہ کو دیگر تسلیم شدہ کالجوں میں منتقل کیا جائے گا۔

 تعلیمی اداروں میں بھی مسلم دشمنی! 

واضح رہےکہ گزشتہ دیڑھ ماہ سے شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کے داخلوں کو منسوخ کیے جانے اور ویشنو دیوی میڈیکل کالج کو صرف ہند طلبہ وطالبات کے لیے مختص رکھے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سمیتی میں صوبہ جموں کی دایاں بازو جماعتیں شامل ہوئیں اور یک جٹ ہوکر اس کے کارکنان لگاتار احتجاج اور ریلیز برآمد کر رہے تھے۔ خیال  رہے کہ یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب NEET امتحان میں کامیابی کے بعد 42 مسلم طلبہ کو BOPEE کے ذریعے ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس پلیسمنٹ کی گئی، جس پر جموں کی کئی تنظیموں نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے صرف ہندو طلبہ کے کالج میں داخلے کا مطالبہ کیا۔ چونکہ قوانین میں مذہبی بنیاد پر داخلے کی کوئی شق موجود نہیں تھی، اس لیے این ایم سی نے معیار کی خلاف ورزیوں کو بنیاد بنا کر ایم بی بی ایس اجازت نامہ واپس لے لیا۔

سنگھرش سمیتی کا جشن 

 این ایم سی کی طرف سے، ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کا درجہ رد کرنے کے بعد، جموں میں سنگھرش سمیتی کے دفتر پر جشن کا ماحول نظر آیا اور کارکنوں ایک دوسرے میں مٹھائیاں بانٹتے نظر آئے۔ اس موقعہ پر سمیتی نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے، مرکزی حکومت اور بلخصوص، ایل جی منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا۔

طلبا یونین  شدید برہم 

 جموں اینڈ کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسیشن کے قومی کنوینر ناصر خیوحامی نے، این ایم سی کی طرف سے ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کا درجہ رد کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایک ویڈیو بیان میں ناصر نے کہا کہ اگر ملک کے مسلم تعلیمی اداروں میں مذہب دیکھ کر داخلہ نہیں دیا جاتا ہے تو ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں کیوں۔

جاوید رانا نے کیا افسوس کا اظہار 

 کابینہ وزیر جاوید رانا نے ماتا شری ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے درجہ کو رد کرنے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک افسوس ناک اور غیر صحت مند قرار دیا۔ سرینگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ، وزیر نے کہا کہ جس طرح کا ماحول پچھلے کچھ دنوں میں بنایا جا رہا تھا اس سے یہی لگتا تھا کہ ایسا کچھ کیا جائے گا، اُنہوں نے کہا کہ پہلے مندر مسجد پر سیاست ہوتی تھی اب تعلیم کو بھی اس میں گھسیٹا گیا ہے۔

 جموں کےلئے نقصان،کانگریس 

شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ کے درجے  کی منسوخی پر یوٹی  کانگریس   صدر طارق کرقرا۔ نے  کہا کہ یہ جموں کے لیے نقصان ہے، کالج کو اقلیتی درجہ کے لیے درخواست دینی چاہیے تھی۔ کانگریس کالج کو دوبارہ کھولنے اور غریب مریضوں کی خدمت کے لیے ہسپتال کو سبسڈی دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

 این سی نے کیا سخت نارضگی کا اظہار 

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینیئر لیڈر اور صوبائی صدر جموں رتن لال گپتا نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کا درجہ منسوخ کیے جانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کے لیڈران پر کڑی تنقید کی ہے۔رتن لال گپتا نے کہا کہ بی جے پی نے اب تعلیم جیسے حساس شعبے کو بھی مذہبی سیاست کی نذر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کٹرا میں قائم اسپتال کو دیے گئے میڈیکل کالج کے درجے کو منسوخ کر دیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لیڈران اور بعض ہندو انتہا پسند تنظیموں کے دباؤ کے باعث اس اہم تعلیمی ادارے کا درجہ واپس لے لیا گیا، جو نہ صرف خطے کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ عوامی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ رتن لال گپتا نے اس فیصلے کو بدقسمتی قرار دیا۔