• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • دہلی: جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں آدھی رات کے بعد طلبہ نے کیا احتجاج

دہلی: جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں آدھی رات کے بعد طلبہ نے کیا احتجاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jan 06, 2026 IST

دہلی: جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں آدھی رات کے بعد طلبہ نے کیا احتجاج
دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلباء نے پیر 5 جنوری کو آدھی رات کو احتجاج کیا۔ انہوں نے عمر خالد اور شرجیل امام کی حمایت میں نعرے لگائے جن میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر امیت شاہ کے خلاف قابل اعتراض نعرے بھی شامل تھے۔ طلبہ کا یہ احتجاج سپریم کورٹ کی جانب سے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔ نعرے بازی کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم دہلی پولیس کو کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی ایک بار پھر تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ یہ احتجاج دہلی فسادات کے ملزمان عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد کیا گیا تھا۔
 
بی جے پی نے اعتراض ظاہر کیا
 
بی جے پی نے اس نعرے بازی پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے قومی ترجمان پردیپ بھنڈاری نے کہا کہ جے این یو میں نعرے لگانے والے طلبہ ’اربن نکسل‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج نہیں بلکہ بھارت مخالف ایجنڈا ہے۔ انہوں نے جے این یو کے طلبہ کے اس مظاہرے کو ’’فکری دہشت گردی‘‘ قرار دیا۔
 
پردیپ بھنڈاری نے کہا،
"یہ ملک مخالف اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی سوچ ہے۔ راہل گاندھی اور کانگریس اسی سوچ کا دفاع کرتے ہیں۔ اسے اظہارِ رائے کی آزادی کہا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ اربن نکسل سوچ ہے۔ یہی سوچ آگے چل کر شرجیل امام اور عمر خالد جیسی ذہنیت کو جنم دیتی ہے۔ اس میں برہان وانی اور افضل گُرو جیسے دہشت گردوں کو سپورٹ کیا جاتا ہے، جبکہ ملک کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کے خلاف نعرے لگائے جاتے ہیں۔"
 
جے این یو میں 2020 کے حملے کی یاد میں بھی احتجاج
 
اس کے علاوہ، 5 جنوری 2020 کو جے این یو کیمپس میں نقاب پوش حملہ آوروں کی جانب سے طلبہ اور اساتذہ پر کیے گئے حملے کو پیر کے روز چھ سال مکمل ہو گئے۔ اس موقع پر بھی جے این یو میں اس دن کو ایک "ظالمانہ حملے" کی یاد کے طور پر منایا گیا اور الزام لگایا گیا کہ حملہ آور آج تک ’نقاب پوش‘ ہی ہیں اور انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔