وینزویلا کے برطرف صدر نکولس مادورو نے امریکی عدالت میں خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ نکولس مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ اور ٹیررزم سمیت سنگین الزامات لگائے گیے ہیں۔ مادورو پیر کے روز نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں پیش ہوئے۔ جہاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اغوا کر کے امریکہ لایا گیا ہے۔ اور وہ اب بھی وینزویلا کے صدر ہیں۔ عدالت میں ابتدائی سماعت کے دوران مادوروکے ساتھ ان کی اہلیہ سیلیا فلورس بھی پیش ہوئیں۔وینزویلا کے برطرف صدر کی اہلیہ نے بھی الزامات سے انکار کیا۔
صدر نکولس مادورو سال 2013 میں آنجہانی صدر ہوگو شاویز کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔ امریکہ اور یورپی یونین ان پر انتخابات میں دھاندلی اور سیاسی مخالفین کو قید کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ مادورو کی برطرفی کے ساتھ وینزویلا میں دو دہائیوں سے جاری بائیں بازو کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا ہے، جبکہ ملک کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
کیوبا نے وینزویلا کے خلاف امریکی اقدام کو ’وحشیانہ عمل ، ’مجرمانہ حملہ‘ اور ’فاشسٹ جارحیت‘ قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کیوبا نے وینزویلا کے ’’آئینی صدر‘‘ نکولس مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں وینزویلا کے مندوب نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے صدر مادورو کو اغوا کیا ہے۔ اور مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائے۔
وینیزویلا میں ڈیلسی روڈریگیز نے عبوری صدر کا حلف اٹھایا
وینیزویلا میں ڈیلسی روڈریگیز نے عبوری صدر کا حلف اٹھا لیا ہے۔ کراکس میں پارلیمانی اجلاس کے دوران یہ تقریب ہوئی۔ جس میں معزول صدر نکولس مادورو کی امریکی تحویل سے رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ 56 سالہ روڈریگیز، سال 2018 سے نائب صدر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو امریکی فورسز نے ہفتے کی رات گرفتار کیا جسے انہوں نے اغوا قرار دیا۔