وزیراعظم مودی آج سے اسرائیل کے دو روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دورے کے دوران وہ اسرائیلی سینیٹ میں خطاب کریں گے، ۔۔اور یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی ہندوستانی وزیراعظم یہاں خطاب کرے گا۔ ذرائع کے مطابق پی ایم مودی کے اس اسرائیل دورے میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو تل ابیب ائرپورٹ پر وزیراعظم مودی کا استقبال کریں گے۔ اور دونوں یروشلم کا دورہ کریں گے۔ تل ابیب میں اسرائیل کے سابق سوشل میڈیا مشیر Daniel Rubenstein نے کہا ہے کہ ہندوستان اور اسرائیل دونوں جمہوری ممالک ہیں۔ اور تجارتی و ترقیاتی تعاون کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے پر سوال کھڑے کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس حکومت نے فلسطینیوں اور ان کے مفادات کو ترک کر دیا ہے۔ منگل کے روز کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے فلسطین کے تئیں ہندوستان کی دیرینہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے چند پہلے ممالک میں شامل تھا۔جے رام رمیش نے کہا کہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے سے ہزاروں فلسطینیوں کی بے دخلی اور بے گھر ہونے کی کارروائی تیز ہو گئی ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے۔
غزہ میں شہریوں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے بلا روک ٹوک جاری ہیں۔ وہیں اسرائیل اور امریکہ ایران پر فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پھر بھی وزیراعظم اپنے اس اچھے دوست نیتن یاہو کو گلے لگانے کے لیے اسرائیل کا سفر کر رہے ہیں ۔جے رام رمیش نے کہا کہ نیتن یاہو پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔