• News
  • »
  • قومی
  • »
  • احتجاج کے بیچ مودی کا بڑا قدم، پیپر لیک پر نیا قانون اور سخت کاروائی

احتجاج کے بیچ مودی کا بڑا قدم، پیپر لیک پر نیا قانون اور سخت کاروائی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 24, 2026 IST

احتجاج کے بیچ مودی کا بڑا قدم، پیپر لیک پر نیا قانون اور سخت کاروائی
 
 
ملک بھر میں پیپر لیک کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ حکومت اس مسئلے پر مزید سخت اقدامات کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ امتحانات میں دھاندلی اور پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی جاری رہے گی اور ایسے مقدمات کا جلد فیصلہ کرنے کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک کورٹ بھی قائم کی جائے گی۔
 

وزیر اعظم مودی کا ویڈیو پیغام

وزیر اعظم مودی نے جمعرات کی رات ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جو اسی دن اس معاملے پر ان کا دوسرا بیان تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک صرف ایک امتحانی مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندانوں کے مستقبل سے جڑا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق پیپر لیک میں ملوث کئی افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیجا جا چکا ہے۔
 

22 لاکھ طلبہ کے امتحانات دوبارہ کرائے گئے

وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ طلبہ کا ایک سال ضائع نہ ہو۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے اپنی پوری انتظامی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے تقریباً 22 لاکھ طلبہ کے امتحانات دوبارہ منعقد کرائے تاکہ ان کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔
 

فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرنے کا اعلان

مودی نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی تھی کہ پیپر لیک کے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے خصوصی عدالت قائم کی جائے۔انہوں نے بتایا کہ اس تجویز کو منظوری مل چکی ہے، کابینہ میں اس پر مزید غور کیا جائے گا، اور پھر اسے پارلیمنٹ میں پیش کرکے جلد قانون کی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔
 

راہول گاندھی کا ردعمل

وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ طلبہ اب بھی مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔تعلیمی محکموں میں بڑے تبادلے ، مرکزی حکومت نے اسی دوران وزارتِ تعلیم میں بھی اہم تبدیلیاں کیں۔ونیت جوشی کو ہائیر ایجوکیشن سیکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا ۔ نریش کمار گنگوار کو نیا ہائیر ایجوکیشن سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ ٹی کے انیل کمار کو اسکول ایجوکیشن سیکریٹری بنایا گیا۔
 

فاسٹ ٹریک کورٹ کیا کرے گی؟

یہ خصوصی عدالت عوامی امتحانات (غیر منصفانہ طریقوں کی روک تھام) ایکٹ 2024 کے تحت درج مقدمات کی تیزی سے سماعت کرے گی۔ اس قانون کے مطابق پیپر لیک یا امتحانات میں دھاندلی کا جرم ثابت ہونے پر پانچ سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس عدالت کے لیے عدالتی افسر انو گروور بالیگہ (Anu Grover Baliga) کو خصوصی سی بی آئی جج مقرر کیا ہے، جو ان مقدمات کی سماعت کریں گی۔
 

جنتر منتر پر احتجاج جاری

دوسری جانب نئی دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ اور نوجوانوں کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور امتحانی نظام میں شفافیت لانے کے لیے مؤثر اصلاحات کی جائیں۔ مظاہرین نے صرف NEET پیپر لیک ہی نہیں بلکہ بے روزگاری، CBSE کے آن اسکرین مارکنگ نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دیگر امتحانی مسائل پر بھی آواز اٹھائی ہے۔ یہ احتجاج 6 جون سے جاری ہے، جبکہ 28 جون کو سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال میں شمولیت کے بعد اس تحریک کو مزید توجہ حاصل ہوئی۔