امتحانی بے ضابطگیوں کو لیکر بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں احتجاج کر رہے تھے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب گروگرام کے میدانتا اسپتال میں مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا اور وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ان سے ملاقات کی، جس کے بعد وانگچک نے جوس پی کر اپنا روزہ ختم کیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران حکومت نے بعض مطالبات پر مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائی۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت جنتر منتر پر پرامن احتجاج کرنے والوں اور 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ میں شریک مظاہرین کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے کے معاملے پر مثبت رویہ رکھتی ہے۔
سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی وزراء جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ، کی موجودگی میں انہوں نے 26 روز بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے تقریباً 65 ارکان پارلیمنٹ نے یا تو ان سے ملاقات کی یا خطوط کے ذریعے ان سے صحت کے پیش نظر بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔
دوسری جانب آج CJP کی جانب سے ملک گیر احتجاج کی کال کے پیش نظر دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر مرکزی دہلی کے متعدد میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس مختلف حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کیے ہوئے ہے۔ اب تمام نظریں حکومت اور CJP کے درمیان ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات پر مرکوز ہیں، جہاں طلبہ کے مطالبات اور احتجاج کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت متوقع ہے۔
وہیں وزیراعظم نریندر مودی نے ایکس پر پوسٹ کر کے کہا کہ میں سونم جی سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق اپنے روزمرہ کے معمولات کو برقرار رکھیں اور جلد از جلد اپنا سابقہ وزن دوبارہ حاصل کریں۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ میں دعا گو ہوں کہ سونم جی ہمیشہ صحت مند رہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں کامل صحت و تندرستی عطا فرمائے۔