وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 اگست کو لال قلعے سے یوم آزادی کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی سیاسی نمائندگی بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد نمائندگی دینے کے لیے آگے آئیں۔پی ایم مودی نے کہا کہ خواتین آج پنچایتوں، بلدیات اور میونسپل کارپوریشنوں میں اہم ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں اور مقامی سطح پر ملک کی قیادت کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین عوامی نمائندے مقامی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر اور بااختیار قیادت بھی فراہم کر رہی ہیں۔
مودی نے ناری شکتی وندن ادھینیم کا ذکر کیا
وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں پارلیمنٹ سے منظور کیے گئے ناری شکتی وندن ادھینیم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سیاسی طور پر زیادہ نمائندگی دینے کا معاملہ گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی بحث کا حصہ رہا ہے۔ مودی نے کہا کہ گزشتہ 40 سالوں میں یہ معاملہ بار بار سیاسی اختلافات اور تنازعات کا شکار ہوتا رہا، جس کی وجہ سے خواتین کی زیادہ نمائندگی کا مقصد آگے نہیں بڑھ سکا۔
سیاسی جماعتوں سے خواتین کے لیے 33 فیصد نمائندگی کی اپیل
وزیر اعظم نے لال قلعے سے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کی صلاحیت اور کردار کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں سیاست میں زیادہ مواقع دیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو آگے آکر اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں 33 فیصد نمائندگی ملے۔ مودی نے کہا کہ خواتین کو زیادہ سیاسی نمائندگی ملنے سے وہ ملک کی پالیسی سازی میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی صلاحیت کو استعمال کرنا ملک کی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔ پی ایم مودی نے صرف 33 فیصد ریزرویشن کی اپیل نہیں کی، بلکہ اسے جلد نافذ کرنے پر زور دیا۔ آج بھی یہی بات نمایاں ہے کہ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے خواتین کے کوٹے کو تیزی سے نافذ کرنے کی اپیل کی۔
یہ معاملہ حالیہ دنوں میں حد بندی کے مسئلے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ 12 اگست کو تمل ناڈو اسمبلی نے لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستیں برقرار رکھنے اور خواتین کے 33 فیصد کوٹے کو موجودہ نشستوں کے ڈھانچے میں نافذ کرنے کی قرارداد منظور کی تھی۔خواتین کے ریزرویشن پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلاف بھی حالیہ دنوں میں سامنے آیا ہے۔ 9 اگست کی رپورٹ میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے درمیان اس قانون کے نفاذ کے معاملے پر بیان بازی رپورٹ ہوئی تھی ،مودی نے خواتین کے ریزرویشن کو صرف سیاسی نمائندگی نہیں بلکہ ملک کی پالیسی سازی اور حکمرانی میں خواتین کے زیادہ کردار سے جوڑا۔
یہی معاملہ اس وقت تمل ناڈو کی سیاست میں بھی اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ تمل ناڈو اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستیں برقرار رکھتے ہوئے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کیا جائے، تاکہ حد بندی کے نتیجے میں جنوبی ریاستوں کی موجودہ نمائندگی متاثر نہ ہو۔
مودی کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خواتین کے 33 فیصد ریزرویشن کے نفاذ پر سیاسی اختلاف جاری ہے۔ اس ریزرویشن کو عملی شکل دینے کے لیے 2026 میں پیش کیا گیا آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکا تھا۔ دوسری جانب تمل ناڈو اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کا کوٹہ موجودہ 543 لوک سبھا نشستوں کے ڈھانچے میں نافذ کیا جائے۔