امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان نے روسی تیل کی خریداری میں نمایاں کمی کی ہے جس سے واشنگٹن کے خدشات دور کرنے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مودی نے مجھے خوش کرنے کیلئے کام کیا۔ امریکی صدر نے کہاکہ مودی مجھے خوش کرنا چاہتے تھے جو بنیادی طورپر میرے اچھے دوست ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ میں خوش نہیں ہوں اور مجھے خوش کرنا ضروری ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہاکہ ہم تجارت کرتے ہیں اور ہم ان پر بہت جلد محصولات بڑھا سکتے ہیں۔امریکی صدر نے روسی تیل پر ہندوستان کے تعاون کو ممکنہ تجارتی نتائج سے بھی جوڑا۔ تاہم انہوں نے انتباہ دیاکہ اگر وہ روسی تیل کے معاملے میں مدد نہیں کرتے ہیں تو ہم ہندوستان پر محصولات بڑھا سکتے ہیں۔
مودی کا تذکرہ اور بات چیت پر تنازعہ
ٹرمپ نے اپنے بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لے کر کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ امریکی صدر اس سے ناخوش ہیں۔ اس سے قبل، ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ایم مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ہندوستان روس سے تیل خریدنا بند کردے گا، لیکن ہندوستانی حکومت نے اس دعوے کو صاف صاف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
بھارت کا موقف اور تعلقات پراثرات
ہندوستان نے مسلسل کہا ہے کہ اس کی توانائی کی پالیسی ملک کی ضروریات اور عالمی منڈی کے حالات پر مبنی ہے۔ روس اس وقت ہندوستان کا سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک ہے، اور سستا روسی تیل ہندوستان کی معیشت کے لیے اہم ہے۔ ٹرمپ کے تازہ بیان نے ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، حالانکہ دونوں لیڈروں نے عوامی طور پر ایک دوسرے کے بارے میں مثبت بیانات شیئر کیے ہیں۔