وزیر اعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے منتظم محمد یونس کے درمیان تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ملاقات ہوئی ۔ دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد محمد یونس کو عبوری حکومت کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد یونس کی مودی سے پہلی ملاقات:
محمد یونس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ سرحد پر دراندازوں کی سرگرمیاں بڑھنے لگیں۔ ادھر ملک کے اندر سے محمد یونس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ لوگ وہاں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ محمد یونس پچھلے کچھ دنوں سے وزیر اعظم مودی سے ملنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ ملاقات محمد یونس کی درخواست پر BIMSTEC کانفرنس کے دوران طے پائی ۔ اس سے قبل عشائیہ کے دوران بھی دونوں رہنما ایک دوسرے کے پاس بیٹھے دیکھے گئے تھے۔
تھائی لینڈ کے وزیر اعظم پٹونگٹرن شیناواترا نے جمعرات کی رات BIMSTEC سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک ضیافت کی میزبانی کی۔ اس ضیافت میں وزیر اعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس ایک ساتھ بیٹھے نظر آئے۔ یونس کے دفتر نے کچھ تصاویر شیئر کیں جن میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ کو چاو فرایا ندی کے کنارے واقع شنگری لا ہوٹل میں مودی کے ساتھ بیٹھے دکھایا گیا ہے۔
اس کے بعد ہی یہ امکان بڑھ گیا کہ نریندر مودی بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ملک چھوڑ کر ہندوستان آنے کے بعد مودی اور یونس کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ یونس کے ساتھ مودی کی ملاقات اس وقت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ شیخ حسینہ کی برطرفی اور اس ملک میں مبینہ طور پر اقلیتوں پر حملوں کے بعد ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ یہ ملاقات یونس کے حالیہ دورہ چین کے پس منظر میں بھی اہم ہے جہاں انہوں نے ہندوستان کے شمال مشرقی علاقے کے بارے میں کچھ تبصرے کیے جو ہندوستان کو پسند نہیں آئے۔