وزیراعظم نریندر مودی آج نئی دہلی میں بیلجیئم کے وزیر اعظم سے اہم دو طرفہ ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے تمام اہم شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ بیلجیئم کے وزیر اعظم تین روزہ سرکاری دورے پر ہندوستان پہنچے ہیں۔ وہ 2 ستمبر سے 4 ستمبر تک ہندوستان کے دورے پر ہیں۔ ان کی نئی دہلی آمد پر ہوائی اڈے پر مرکزی وزیر سنجے سیٹھ نے ان کا استقبال کیا۔
بیلجیئم کے وزیر اعظم کے ہمراہ ملک کے دفاع اور غیر ملکی تجارت کے وزیر کے علاوہ ایک اعلیٰ سطحی سرکاری اور تجارتی وفد بھی ہندوستان آیا ہے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بیلجیئم کے وزیر اعظم کا ہندوستان کا پہلا دورہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ تقریباً دو دہائیوں کے بعد بیلجیئم کے کسی وزیر اعظم کا ہندوستان کا یہ پہلا دورہ ہے، جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور بیلجیئم کے وزیر اعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات کے مکمل دائرہ کار پر گفتگو کی جائے گی۔ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی اور دیگر باہمی تعاون کے شعبوں کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہو سکتا ہے۔دونوں رہنما علاقائی اور عالمی سطح پر درپیش اہم چیلنجوں اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر میں ہندوستان اور بیلجیئم کے درمیان سفارتی اور اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز رہنے کی توقع ہے۔
بیلجیئم کے وزیر اعظم نے فروری 2025 میں عہدہ سنبھالا تھا اور اب ان کا یہ ہندوستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ ان کے ساتھ اعلیٰ سطحی تجارتی وفد کی موجودگی اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ اس دورے میں اقتصادی اور کاروباری تعاون کو بھی اہمیت دی جائے گی۔ اب سب کی نظریں وزیر اعظم مودی اور بیلجیئم کے وزیر اعظم کے درمیان ہونے والی دو طرفہ بات چیت پر مرکوز ہیں، جہاں دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دینے اور مستقبل کے تعاون کے امکانات کو مزید وسعت دینے پر غور کیا جائے گا۔