وزیر اعظم نریندر مودی نے حیدرآباد ہاؤس دہلی میں برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔ اس سے پہلے آج راشٹرپتی بھون کے صحن میں برازیل کے صدر کا ایک رسمی استقبال کیا گیا جو ہندوستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ صدر لولا کو راشٹرپتی بھون میں گارڈ آف آنر سے نوازا گیا۔ برازیل کے صدر کا راشٹرپتی بھون میں پی ایم مودی اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے استقبال کیا۔واضح رہے کہ برازیلی صدر نے گذشتہ روز برازیل ٹریڈ کے پہلے دفتر کا افتتاح کیاتھا۔ انہوں نے کہاکہ اس سے بیرون ملک برازیلی مصنوعات اور خدمات کو فروغ ملے گا اور برازیل کی معیشت کے اسٹریٹجک شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا۔
بھارت-برازیل تجارتی تعلقات کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے تیار
برازیل کے سرکاری بینک Banco do Brasil کی صدر ٹارسینا میڈیروس نے کہا ہے کہ ان کا بینک بھارت-برازیل تجارتی تعلقات کو بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک پہنچانے میں ایک حکمت عملی کے مطابق کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ بھارت-برازیل بزنس فورم میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن ابھی اس میں مزید بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ میڈیروس نے بتایا کہ بھارت اور برازیل کئی معاملات میں ایک جیسے ہیں – دونوں بڑے اور متنوع ممالک ہیں اور دونوں کا مقصد طویل مدتی اقتصادی ترقی ہے۔ انہوں نے بھارت کی ڈیجیٹل پیمنٹ، فِن ٹیک اور مالی شمولیت میں عالمی قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ ان شعبوں میں دونوں ممالک مشترکہ طور پر کام کر سکتے ہیں۔
ممکنہ تعاون کے شعبے
میڈیروس نے کہا کہ زراعت، توانائی، معدنیات، دوا، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ ایسے شعبے ہیں جن میں تعاون بڑھا کر تجارتی تعلقات کو تیزی سے فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گرین فنانس، قابل تجدید توانائی اور توانائی کے منتقلی کے شعبے میں شراکت داری دونوں ممالک کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر مضبوط بنا سکتی ہے۔ میڈیروس نے مزید بتایا کہ ان کا بینک کمپنیوں کو جوڑنے، فارن ایکسچینج سروسز فراہم کرنے اور مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل میں مدد کرے گا تاکہ بھارت-برازیل تجارتی تعلقات کو نئی رفتار دی جا سکے۔