وزیراعظم نریندر مودی آج کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم، یعنی ایس سی او، کے 26ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کریں گے۔ یہ اجلاس ایس سی او کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ نمائندے شریک ہوں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں ہندوستان، چین، روس سمیت دس رکن ممالک شامل ہیں۔ ہندوستان 2017 سے اس تنظیم کا مکمل رکن ہے اور خطے سے متعلق اہم سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے معاملات پر ایس سی او کے پلیٹ فارم کو اہمیت دیتا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے خطاب میں بنیادی طور پر سلامتی، رابطے اور مواقع کے شعبوں میں ہندوستان کی ترجیحات پر روشنی ڈالیں گے۔ ہندوستان مسلسل دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کو خطے کے امن اور استحکام کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف دوہرے معیار کی مخالفت
ہندوستان کا مؤقف رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کا دوہرا معیار قبول نہیں ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم مودی اپنے خطاب میں رکن ممالک کے درمیان مشترکہ کوششوں اور دہشت گردی کے خلاف مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دے سکتے ہیں۔ہندوستان کا ماننا ہے کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی صرف کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور ترقی کو متاثر کرنے والے چیلنجز ہیں۔ ایسے میں تمام رکن ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے اور مشترکہ حکمت عملی کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
کنیکٹیویٹی اور علاقائی سالمیت پر زور
ایس سی او اجلاس میں رابطے اور کنیکٹیویٹی کا معاملہ بھی ہندوستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ رکن ممالک کے درمیان بہتر سڑک، ریل، تجارتی اور اقتصادی روابط خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم ہندوستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی کنیکٹیویٹی منصوبے کو تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیے۔
نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع
وزیر اعظم مودی اپنے خطاب میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیں گے۔ ہندوستان کا خیال ہے کہ رکن ممالک کے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، اختراع، کاروبار اور روزگار کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا خطے کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔ بشکیک میں ہونے والا یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور عالمی سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ایسے میں وزیر اعظم مودی کا خطاب ہندوستان کی علاقائی ترجیحات اور ایس سی او کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیغام دے سکتا ہے۔