افغان حکام کے مطابق پاکستان کی جانب سے پیر کی علی الصبح افغانستان کے مختلف سرحدی علاقوں میں کیے گئے فضائی حملوں میں کم از کم 36 شہری ہلاک جبکہ 160 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ ان حملوں کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت نے ان کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں "بزدلانہ جارحیت" اور "سفاکیت" قرار دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اتوار کی رات پاکستان-افغانستان سرحد کے قریب زمینی اور فضائی کارروائیاں کیں، جن کا مقصد عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں میں 29 جنگجو مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے جواب میں کیا گیا، جن میں سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے بتایا کہ صوبہ پکتیا کے ضلع چمکنی میں ایک رہائشی مکان کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بزرگ اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے جبکہ خاندان کے دیگر افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق جب مقامی لوگ زخمیوں کو نکالنے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے جمع ہوئے تو اسی علاقے پر دوبارہ حملہ کیا گیا، جس میں 28 دیہاتی ہلاک اور 158 افراد زخمی ہو گئے۔
حمد اللہ فطرت نے مزید بتایا کہ پکتیا کے ضلع گیان میں ایک اور حملے کے دوران ایک رہائشی مکان تباہ ہوا، جس میں چھ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ اسی طرح صوبہ کنڑ میں بھی ایک شہری گھر کو نشانہ بنایا گیا، جہاں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم تقریباً 30 مویشی ہلاک ہو گئے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملک میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن کی ذمہ داری زیادہ تر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک عسکریت پسند گروہوں پر عائد کی جاتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ گروہ افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی الگ الگ تنظیمیں ہیں، تاہم پاکستان کا الزام ہے کہ دونوں کے درمیان قریبی روابط موجود ہیں۔
یہ کارروائی کراچی میں نیم فوجی رینجرز کے علاقائی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے ایک حملے کے بعد کی گئی، جس میں تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستانی فورسز نے کارروائی کے دوران تین حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک مشتبہ حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کیا، جس کے بارے میں پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ افغان شہری ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی گزشتہ کئی مہینوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فروری سے اب تک سرحد پار حملوں اور جوابی کارروائیوں میں سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اگرچہ چین سمیت کئی ممالک نے ثالثی کی کوششیں کیں اور متعدد ادوار کے مذاکرات بھی ہوئے، تاہم اب تک کوئی مستقل جنگ بندی یا دیرپا امن معاہدہ سامنے نہیں آ سکا۔ تازہ حملوں نے ایک بار پھر خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔