پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ طالبان حکومت نے پاکستانی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔افغان وزارت دفاع نے کہا کہ مناسب وقت پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا،مارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ حالیہ حملے افغانستان میں موجود قیادت اور منتظمین کے اشاروں پر کیے گئے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے متعدد بار طالبان حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنی سرزمین کو مسلح گروہوں کے استعمال سے روکے، لیکن کابل نے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے اندر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری عموماً تحریکِ طالبان پاکستان اور کالعدم بلوچ گروہوں پر عائد کی جاتی رہی ہے۔ دونوں کو علیحدگی پسند تنظیمیں سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ ٹی ٹی پی، افغان طالبان سے الگ تنظیم ہے، تاہم دونوں کے درمیان رابطے برقرار رہتے ہیں۔
جہاد اینڈ ٹیررزم تھریٹ مانیٹر کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سال 2025 کے دوران 3,573 حملے کیے۔ تنظیم کے مطابق ان حملوں میں 3,481 پاکستانی سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور 3,818 زخمی ہوئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
افغان میں فضائی حملوں کی حکومت ہند نے سخت مذمت کی
پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر تازہ فضائی حملوں کی حکومت ہند نے سخت مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بیان میں کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جو ماہِ رمضان کے دوران انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کی جانب سے اپنی اندرونی ناکامیوں کو بیرونی رُخ دینے کی ایک اور کوشش ہے۔ ہندوستان نے ایک بار پھر افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔