دودن کے التوا کے بعد پارلیمنٹ کی کارروائی آج سے دوبارہ شروع ہو رہی ہے، جہاں مرکزی حکومت لوک سبھا میں نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (NCDC) ترمیمی بل 2026 پیش کرے گی۔ حکومت کے مطابق اس مجوزہ بل کا مقصد کوآپریٹو شعبے کو مزید مضبوط بنانا اور مالی معاونت کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔فی الحال نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن ملک بھر میں کوآپریٹو سوسائٹیوں کی منصوبہ بندی، فروغ اور مالی معاونت کے لیے کام کرتی ہے۔ موجودہ قانون کے تحت این سی ڈی سی بنیادی طور پر انہی اداروں کو مالی مدد فراہم کر سکتی ہے جو بطور کوآپریٹو سوسائٹی رجسٹرڈ ہوں۔ تاہم مجوزہ ترمیم کے بعد ادارے کے اختیارات میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔
بل کے تحت این سی ڈی سی کو ایسے ترقیاتی اداروں، فیڈریشنز اور تنظیموں کو بھی براہ راست قرض اور گرانٹ دینے کا اختیار حاصل ہو گا جو کوآپریٹو سوسائٹی کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں لیکن کوآپریٹو شعبے کی ترقی اور بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے مالی وسائل تک رسائی آسان ہوگی اور کوآپریٹو سیکٹر کی ترقی کی رفتار تیز ہو سکے گی۔ مرکزی حکومت کے مطابق ملک میں زرعی، دیہی اور سماجی ترقی میں کوآپریٹو اداروں کا اہم کردار ہے۔ ایسے میں مالی معاونت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کوآپریٹو منصوبوں کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئی ترامیم کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور دیہی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔
پارلیمنٹ میں بل پیش کیے جانے کے بعد اس پر بحث متوقع ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بل کی مختلف شقوں کا جائزہ لینے کے بعد اپنا موقف سامنے رکھ سکتی ہیں، جبکہ حکومت اسے کوآپریٹو شعبے کی جدید ضروریات کے مطابق ایک اہم اصلاحاتی قدم قرار دے رہی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق پارلیمنٹ کے دوبارہ آغاز کے ساتھ ہی کئی اہم قانون سازی کے معاملات زیر بحث آئیں گے، تاہم این سی ڈی سی ترمیمی بل 2026 کو آج کے ایجنڈے میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ایوان میں اس بل پر کیا بحث ہوتی ہے اور کیا اسے دونوں ایوانوں کی منظوری حاصل ہو پاتی ہے یا نہیں