• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • بھارت میں مسلم مخالف تشدد پر رپورٹ کا دعویٰ، 2026 میں اب تک 44 مسلمانوں کی اموات

بھارت میں مسلم مخالف تشدد پر رپورٹ کا دعویٰ، 2026 میں اب تک 44 مسلمانوں کی اموات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 10, 2026 IST

بھارت میں مسلم مخالف تشدد پر رپورٹ کا دعویٰ، 2026 میں اب تک 44 مسلمانوں کی اموات
بھارت میں مسلم مخالف تشدد سے متعلق ایک رپورٹ میں تشویش ناک اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ ساؤتھ ایشیا جسٹس کمپین کے انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر کے مطابق، مئی سے جولائی 2026 کے درمیان ملک میں 25 مسلمانوں کی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان 25 ہلاکتوں میں سے 10 افراد ہندوتوا سے وابستہ حملہ آوروں کے ہاتھوں مارے گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوری سے اب تک 2026 میں مسلم مخالف تشدد کے مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 44 مسلمانوں کی جانیں گئی ہیں۔
 
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں ریکارڈ کی گئی یہ تعداد 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس رپورٹ نے ملک میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور بڑھتے ہوئے تشدد کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ساؤتھ ایشیا جسٹس کمپین کا کہنا ہے کہ مختلف واقعات کے دوران مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ میں ان واقعات کی نگرانی اور دستاویز بندی کے ذریعے ملک میں مسلم مخالف تشدد کے رجحانات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
 
ان اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد ایک اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ مذہبی بنیاد پر ہونے والے تشدد کو روکنے اور متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کس حد تک مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔رپورٹ میں پیش کیے گئے دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت میں مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ اور نفرت انگیز تشدد کے خلاف کارروائی پر بحث جاری ہے۔
 
البتہ ان اعداد و شمار کو رپورٹ کے مرتب کردہ طریقۂ کار اور تعریفوں کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ مختلف ادارے مذہبی تشدد کے واقعات اور ہلاکتوں کی گنتی کے لیے مختلف معیار استعمال کر سکتے ہیں۔ 44 اموات کا یہ دعویٰ ایک سنجیدہ سوال ضرور اٹھاتا ہے: اگر مذہب کی بنیاد پر تشدد میں انسانی جانیں مسلسل ضائع ہو رہی ہیں، تو کیا ان واقعات کو روکنے اور ہر شہری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موجودہ اقدامات کافی ہیں؟