Saturday, January 31, 2026 | 12, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • پٹنہ :نیٹ طالبہ قتل معاملہ میں نیا انکشاف، تفتیش کی سمت مکمل طور پر تبدیل

پٹنہ :نیٹ طالبہ قتل معاملہ میں نیا انکشاف، تفتیش کی سمت مکمل طور پر تبدیل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 29, 2026 IST

پٹنہ :نیٹ طالبہ قتل معاملہ میں نیا انکشاف، تفتیش کی سمت مکمل طور پر تبدیل
 
پٹنہ کے شمبھو گرلز ہاسٹل میں رہ کر NEET کی تیاری کر رہی طالبہ کی مشکوک موت کی تفتیش میں نیا موڑ آیا ہے۔ فورنسک سائنس لیبارٹری (FSL) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبہ کے انڈرگارمنٹس پر سپرم ملا ہے اور ذرائع کے مطابق یہ 18 سے 21 سال کے لڑکے کا ہے۔ اس انکشاف نے تفتیش کی سمت مکمل طور پر تبدیل کر دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا NEET طالبہ کا قاتل کوئی ساتھی، کوئی جاننے والا، یا ہاسٹل کا کوئی قریبی شخص تھا؟
 
FSL رپورٹ نے تفتیش کی سمت بدل دی  :
 
ایف ایس ایل کے سرکاری ذرائع کے مطابق، طالبہ کے انڈرگارمنٹس پر ملے سپرم کے بائیولوجیکل تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ یہ 18 سے 21 سال کے ایک نوجوان کا ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب ابتدائی تفتیش شمبھو گرلز ہاسٹل کے مالک منیش رنجن پر مرکوز تھی۔ تاہم، اس نئی معلومات نے تفتیشی ایجنسیوں کے سامنے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا یہ نوجوان طالبہ کا دوست تھا؟ کیا وہ ہاسٹل سے منسلک تھا؟ یا یہ کوئی ایسا شخص ہے جس پر اب تک شک نہیں کیا گیا؟
 
پہلے خودکشی کا شک، پھر ریپ-قتل  کی تصدیق  :
 
اس ہائی پروفائل کیس میں، پولیس نے شروع میں اسے خودکشی قرار دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبہ نے بڑی مقدار میں نیند کی گولیاں کھائی تھیں اور وہ پہلے سے ٹائیفائیڈ سے متاثر تھی۔ تاہم، فیملی نے شروع سے ہی اس تھیوری کو مسترد کر دیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور FSL کی رپورٹ نے فیملی کے الزامات کی تصدیق کی۔ رپورٹ میں طالبہ کے جسم پر کئی سنگین چوٹیں، گردن پر خراشیں اور دباؤ کے نشانات، اور اس کے پرائیویٹ پارٹس پر سنگین چوٹوں کا ذکر ہے۔ ان حقائق سے واضح ہو گیا  ہےکہ طالبہ کی موت سے پہلے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔
 
تین دن تک ہاسٹل سیل نہیں کیا گیا  :
 
فیملی کا الزام ہے کہ واقعے کے تین دن بعد تک پولیس نے شمبھو گرلز ہاسٹل کو سیل نہیں کیا، جس سے اہم شواہد سے چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ فیملی کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کاروائی کی جاتی تو سچائی پہلے سامنے آ سکتی تھی۔ اس لاپرواہی کے بعد، دو پولیس افسران، چترگپت نگر پولیس اسٹیشن کی SHO روشنی کماری اور قدمکوان پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر ہیمنت جھا کو معطل کر دیا گیا۔
 
SIT تفتیش اب DNA میچنگ پر ٹکی  :
 
FSL رپورٹ کے بعد، SIT نے کئی مشتبہ افراد کے DNA سیمپل لیے ہیں۔ ان میں طالبہ کے فیملی کے کئی لوگ، ہاسٹل مالک منیش رنجن اور کئی دیگر شامل ہیں۔ ان سیمپلوں کا اب متاثرہ کے انڈرگارمنٹس پر ملے سپرم سے موازنہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 18-21 سال کا یہ نوجوان طالبہ کے بہت قریب ہو سکتا ہے، جیسے کوئی دوست، رشتہ دار، یا کوئی جانا پہچانا شخص جو اکثر ہاسٹل آتا جاتا تھا۔
 
فیملی CBI تفتیش کا مطالبہ کر رہی  :
 
طالبہ کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی موت کے بعد، پولیس نے ان سے بار بار پوچھا کہ وہ کس سے بات کرتی تھی اور اس کے دوست کون تھے، جبکہ اصلی مجرم کھلے گھوم رہے تھے۔ فیملی اب بھی CBI (سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن) تفتیش کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس کیس کو لے کر پٹنہ اور بہار کے کئی دیگر اضلاع میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، لوگ طالبہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔