Monday, February 02, 2026 | 14, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • سیزرین کے بعد حمل کب: احتیاط، منصوبہ بندی اور صحت مند ماں بننے کی مکمل رہنمائی

سیزرین کے بعد حمل کب: احتیاط، منصوبہ بندی اور صحت مند ماں بننے کی مکمل رہنمائی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 21, 2026 IST

سیزرین کے بعد حمل کب: احتیاط، منصوبہ بندی اور صحت مند ماں بننے کی مکمل رہنمائی
آج کے دور میں سیزرین ڈلیوری کے بعد دوبارہ حمل ایک عام مگر نہایت حساس موضوع بن چکا ہے۔ سیزرین کے بعد ماں کے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں—اگلا حمل کب محفوظ ہے؟ کیا نارمل ڈلیوری ممکن ہے؟ کن احتیاطوں کی ضرورت ہے؟ انہی تمام سوالات پر روشنی ڈالنے کے لیے منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام “ہیلتھ اور ہم” میں رینبو چلڈرن ہاسپٹلز، بنجارہ ہلز وعطا پور، حیدرآباد کی کنسلٹنٹ آبسٹیٹریشن و گائناکولوجسٹ ڈاکٹر اینی پرنوتھا نے تفصیلی گفتگوکی۔

 سیزرین کے بعد اگلا حمل کب؟

ماہرین کے مطابق سیزرین کے بعد اگلے حمل کے لیے کم از کم 18 سے 24 ماہ کا وقفہ انتہائی ضروری ہے۔ اس عرصے میں بچہ دانی اور ٹانکوں (Stitches) کو مکمل طور پر بھرنے کا وقت ملتا ہے۔ اگر یہ وقفہ کم ہو تو اگلا حمل ہائی رسک بن سکتا ہے، جس میں قبل از وقت زچگی، زیادہ خون بہنا یا رحم پھٹنے (Uterine Rupture) جیسے خطرات شامل ہیں۔

 کیا سیزرین کے بعد نارمل ڈلیوری ممکن ہے؟

اکثر خواتین کا یہ سوال ہوتا ہے کہ کیا پہلے سیزرین کے بعد دوسری بار نارمل ڈلیوری ممکن ہے؟ ڈاکٹر کے مطابق، یہ ممکن ہے مگر مخصوص شرائط کے ساتھ ۔ جیسے:
 
  •  صرف ایک ہی سیزرین ہوا ہو
  •  بچے کا سر نیچے کی طرف ہو
  •  دونوں بچوں کے درمیان مناسب وقفہ ہو
  •  رحم پر کوئی اور سرجری نہ ہوئی ہو
  • ایسی صورت میں تجربہ کار ڈاکٹر کی نگرانی میں نارمل ڈلیوری کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

جلد حمل ہونے کے نقصانات

اگر سیزرین کے 6 سے 10 ماہ کے اندر حمل ٹھہر جائے تو یہ ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ رحم پوری طرح مضبوط نہیں ہوتا، جس سے پیچیدگیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ بعض کیسز میں ایمرجنسی سیزرین یا حتیٰ کہ رحم نکالنے (Hysterectomy) تک کی نوبت آ سکتی ہے۔

 ضروری اسکریننگ اور اسکین

سیزرین کے بعد حمل میں ابتدائی اسکن بہت اہم ہوتا ہے تاکہ اسکار ایکٹوپک پریگننسی جیسے خطرناک مسئلے کو بروقت پہچانا جا سکے۔ اس کے علاوہ بچے کی نشوونما، پلیسینٹا کی پوزیشن، اور کسی بھی پیچیدگی کی جانچ کے لیے باقاعدہ اسکین ضروری ہیں۔

 غذا، ادویات اور طرزِ زندگی

حمل کے دوران فولک ایسڈ، آئرن اور کیلشیم نہایت ضروری ہیں۔ فولک ایسڈ بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما میں مدد دیتا ہے، جبکہ آئرن اور کیلشیم ماں کی صحت اور خون کی کمی سے بچاؤ کے لیے اہم ہیں۔ متوازن غذا، سبزیاں، فائبر، مناسب پانی اور ہلکی پھلکی ورزش جیسے واک، یوگا اور سوئمنگ فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

 ذہنی دباؤ اور خاندانی تعاون

ڈاکٹر کے مطابق، حمل صرف عورت کا نہیں بلکہ پورے خاندان کا سفر ہے۔ خاص طور پر دوسرے حمل میں، جب ایک بچہ پہلے سے موجود ہو، تو ماں پر ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے میں شوہر اور خاندان کا جذباتی اور عملی تعاون نہایت ضروری ہے تاکہ ماں ذہنی دباؤ سے محفوظ رہے۔
  • وارننگ سائنز جنہیں نظرانداز نہ کریں
  •  پیٹ کے نچلے حصے میں شدید درد
  •  زخم کے مقام پر کھنچاؤ
  •  خون آنا
  • بچے کی حرکت میں کمی
  • ایسی کسی بھی علامت پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ڈلیوری کے بعد کی دیکھ بھال

سیزرین کے بعد کم از کم 6 ہفتے سے 12 ہفتے تک باقاعدہ فالو اپ ضروری ہے، خاص طور پر اگر شوگر یا بلڈ پریشر جیسے مسائل رہے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ فیملی پلاننگ اور مناسب برتھ اسپیسنگ پر بھی ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے۔
 
ماہرین کا واضح پیغام ہے کہ صحیح وقفہ، باقاعدہ چیک اپ، متوازن غذا، ذہنی سکون اور خاندانی تعاون سیزرین کے بعد صحت مند حمل اور محفوظ ڈلیوری کی ضمانت ہیں۔ جب ماں صحت مند ہوگی، تب ہی بچہ بھی صحت مند ہوگا۔منصف ٹی وی کے پروگرام “ہیلتھ اور ہم” میں پیش کی گئی یہ معلومات لاکھوں خواتین کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں، تاکہ وہ سیزرین کے بعد بھی ایک محفوظ، صحت مند اور خوشگوار ماں بننے کا سفر طے کر سکیں۔
ہیلتھ اور ہم پروگرام کی  مکمل ویڈیو یہاں دیکھیں