پنجاب کے شہروں جالندھر اور امرتسر میں بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) کے ہیڈ کوارٹر کے باہر اور قریبی علاقوں میں دو سلسلہ وار دھماکوں نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ پہلا دھماکہ منگل کی شام 8 بجے کے بعد ہوا جو کہ ہلکی نوعیت کا تھا، جبکہ دوسرا دھماکہ رات ساڑھے 11 بجے کے قریب ہوا۔ خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ پنجاب پولیس اور مرکزی ایجنسیوں نے گہرائی سے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور پورے صوبے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
جالندھر میں BSF ہیڈ کوارٹر کے پاس دھماکہ:
پولیس حکام کے مطابق رات 8 بجے کے بعد جالندھر میں بی ایس ایف کے پنجاب فرنٹیر ہیڈ کوارٹر کے باہر ایک دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک اسکوٹر میں آگ لگ گئی اور بی ایس ایف چوک کا ٹریفک سگنل تباہ ہو گیا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر ایک ایکٹیوا اسکوٹر میں دھماکے کے بعد آگ لگنے کی تصدیق کی ہے، تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ اسکوٹر کے مالک کی شناخت 22 سالہ گرپریت سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جو پارسل ڈیلیوری کا کام کرتا ہے۔
امرتسر میں چھاؤنی کی دیوار پر دھماکہ:
جالندھر میں ہونے والے دھماکے کے چند گھنٹے بعد، رات ساڑھے 11 بجے امرتسر میں خاصہ روڈ پر واقع بی ایس ایف تنصیبات کے قریب آرمی کیمپ کے باہر ایک اور دھماکہ ہوا۔ یہ دھماکہ فوجی چھاؤنی کی چاردیواری پر ہوا۔ کم شدت کے اس دھماکے سے دیوار پر لگی ٹین کی چادر کو نقصان پہنچا۔ امرتسر (رورل) کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سہیل میر قاسم نے بتایا کہ کسی شخص نے چاردیواری کی طرف کوئی چیز پھینکی تھی جس سے دھماکہ ہوا۔
اٹاری واہگہ بارڈر سے 15 کلومیٹر دور کا علاقہ:
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فورنزک سائنس لیبارٹری (FSL) کی ٹیم کو طلب کیا، جنہوں نے جائے وقوعہ سے نمونے جمع کر لیے ہیں۔ ابتدائی شبہات کے مطابق، موٹر سائیکل پر سوار کسی حملہ آور نے جائے وقوعہ پر گرینیڈ پھینکا تھا۔ یہ علاقہ اٹاری واہگہ بین الاقوامی سرحد سے تقریباً 15 کلومیٹر دور واقع ہے۔
ان دھماکوں کے بعد پنجاب کانگریس اور شرومنی اکالی دل نے عام آدمی پارٹی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سیکیورٹی میں غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔