کولکتہ: اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی (SP) کے صدر اکھلیش یادو نے آج جمعرات (7 مئی) کو کولکتہ میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد اس ملاقات کو سیاسی لحاظ سے بے حد اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا الزام:
ملاقات کے دوران اکھلیش یادو نے ممتا بنرجی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ دیدی آپ ہاری نہیں ہیں۔ اس موقع پر ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر ابھیشیک بنرجی بھی موجود تھے، جنہوں نے اکھلیش یادو کا والہانہ استقبال کیا۔
بی جے پی پراکھلیش کی تنقید:
ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے بی جے پی پر سخت تنقید کی اور کہا:بی جے پی نے بنگال میں جمہوریت کو تباہ کرنے کا راستہ نکالا ہے۔ جتنا نقصان بی جے پی نے جمہوریت کو پہنچایا ہے، شاید ہی کسی اور نے پہنچایا ہو۔اکھلیش نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی آنکھوں میں ممتا بنرجی اس لیے کھٹکتی ہیں کیونکہ وہ 'آدھی آبادی' (خواتین) کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کو 'جاگیردارانہ اور مرد اساس' سوچ کی حامل جماعت قرار دیا۔
انتخابی اداروں کی ساکھ پر سوال:
اکھلیش یادو نے انتخابی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جن اداروں کا کام منصفانہ انتخابات کرانا تھا، انہوں نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ انہوں نے اتر پردیش کے ضمنی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں فورسز کا استعمال کر کے لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا تھا، اور بنگال میں بھی کچھ ویسا ہی حربہ اپنایا گیا ہے۔
بنگال کی موجودہ سیاسی صورتحال:
مغربی بنگال کے حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج میں بی جے پی: 207 نشستوں کے ساتھ زبردست اکثریت حاصل کر چکی ہے۔جبکہ ٹی ایم سی پارٹی محض 80 نشستوں پر سمٹ گئی ہے۔
شکست کے باوجود ممتا بنرجی نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری طرف، ریاست میں انتخابی نتائج کے بعد تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ بدھ (6 مئی) کو بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری کے ذاتی معاون (PA) کے قتل کے بعد سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔
تاہم اکھلیش یادو کا یہ دورہ ممتا بنرجی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کے متحد ہونے کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔