• News
  • »
  • قومی
  • »
  • آر جی کار کیس: متاثرہ ڈاکٹر کی والدہ نے انصاف کا مطالبہ دہرایا، ثبوت مٹانے والوں کو بھی سزا دینے کا مطالبہ

آر جی کار کیس: متاثرہ ڈاکٹر کی والدہ نے انصاف کا مطالبہ دہرایا، ثبوت مٹانے والوں کو بھی سزا دینے کا مطالبہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 06, 2026 IST

آر جی کار کیس: متاثرہ ڈاکٹر کی والدہ نے انصاف کا مطالبہ دہرایا، ثبوت مٹانے والوں کو بھی سزا دینے کا مطالبہ
کولکاتا کے آر جی کار میڈیکل کالج واسپتال میں ٹرینی ڈاکٹر کے مبینہ عصمت دری اور قتل کیس میں ایک بار پھر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ متاثرہ ڈاکٹر کی والدہ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان افراد کو پہچانتی ہیں جو ان کے مطابق اس جرم اور بعد ازاں شواہد مٹانے میں ملوث تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف مرکزی ملزم ہی نہیں بلکہ ثبوت چھپانے یا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے والے تمام افراد کو بھی قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
 
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ کی والدہ نے کہا کہ ان کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک اور انسانیت کو شرمشار کر دینے والے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ملک کے عدالتی نظام پر اعتماد ہے اور وہ امید کرتی ہیں کہ تمام ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
 
انہوں نے ریاستی حکومت اور تفتیشی عمل کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف کی امید دلائی گئی تھی، لیکن واقعے کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود انہیں اب بھی انصاف کا انتظار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تاخیر ہوئی ہے، لیکن انہیں یقین ہے کہ حقیقت آخرکار سامنے آئے گی۔
 
متاثرہ کی والدہ نے زور دے کر کہا کہ اگر کسی نے شواہد مٹانے، حقائق چھپانے یا مجرموں کو بچانے کی کوشش کی ہے تو ایسے افراد بھی برابر کے قصوروار ہیں اور ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
 
اس سے قبل متاثرہ کے والد نے بھی حالیہ عدالتی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ عدالت کی نگرانی میں جاری تحقیقات سے انصاف کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کی نگرانی سے خاندان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور انہیں امید ہے کہ اصل ذمہ داروں کو سزا ضرور ملے گی۔
 
واضح رہے کہ 9 اگست 2024 کو آر جی کار میڈیکل کالج و اسپتال میں 31 سالہ پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کی لاش اسپتال کے سیمینار ہال سے برآمد ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ڈاکٹروں اور طبی طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور طبی اداروں میں سکیورٹی کے بہتر انتظامات، شفاف تحقیقات اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
 
بعد ازاں، کلکتہ ہائی کورٹ نے کیس کی تحقیقات کے حوالے سے سخت ریمارکس دیتے ہوئے نئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی تاکہ معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مؤثر تفتیش یقینی بنائی جا سکے۔ تحقیقات اور عدالتی کارروائی تاحال جاری ہے۔