Monday, August 24, 2026 | 09 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • ساحل سے سی جے پی نے نہیں کیا رابطہ؟ زخمی طالب علم نے کیا کہا

ساحل سے سی جے پی نے نہیں کیا رابطہ؟ زخمی طالب علم نے کیا کہا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 24, 2026 IST

ساحل سے سی جے پی  نے نہیں کیا رابطہ؟ زخمی طالب علم نے کیا کہا
جنتر منتر پر 20 جولائی کو ہونے والے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے طالب علم ساحل سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی ملاقات کے بعد سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔ راہل گاندھی حال ہی میں ساحل کے ساتھ سنسد مارگ پولیس اسٹیشن پہنچے تھے، جہاں انہوں نے پیلٹ گن فائرنگ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
 
ساحل نے ملاقات کے دوران 20 جولائی کے واقعے کے بعد پیش آنے والے اپنے تکلیف دہ تجربے کے بارے میں بتایا۔ اس کے مطابق، اس کے جسم میں 150 سے زیادہ چھرے پیوست ہوئے ہیں۔ ساحل کا دعویٰ ہے کہ کچھ چھرے سینے میں داخل ہو کر دل کے انتہائی قریب پہنچ گئے، جبکہ آنکھ کے پیچھے بھی چھرے موجود ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر کچھ چھرے مزید اندر چلے جاتے تو اس کی جان بھی جا سکتی تھی۔
 
 
ساحل کے مطابق، اسے 22 جولائی کی رات سرجری سے گزرنا پڑا۔ تاہم اس کے جسم میں اب بھی متعدد چھرے موجود ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک چھرے کی موجودگی دماغ کے قریب اعصاب کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
 
 
ساحل نے بتایا کہ سرجری کے بعد وہ اور اس کی والدہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے کئی دن تک پولیس کے چکر لگاتے رہے۔ اس کے مطابق، آن لائن اور ای میل کے ذریعے شکایات بھی بھیجی گئیں، لیکن ابتدائی طور پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ بالآخر ساحل نے راہل گاندھی کے ساتھ سنسد مارگ پولیس اسٹیشن کا رخ کیا۔ وہاں کئی گھنٹوں تک احتجاج اور دھرنے کے بعد ایف آئی آر درج کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔
 
ساحل نے یہ بھی بتایا کہ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے سمیت تنظیم کے کسی عہدیدار نے اب تک اس سے رابطہ نہیں کیا۔ تاہم ساحل نے کہا کہ اسے اس حوالے سے کوئی شکایت یا رنجش نہیں ہے اور اسے امید ہے کہ CJP کے ارکان مستقبل میں اس سے رابطہ کریں گے۔
 
 
ساحل کا تعلق ہریانہ سے ہے جبکہ اس کا خاندان دہلی کے نجف گڑھ علاقے میں رہتا ہے۔ اس کے والد ڈرائیور ہیں اور ساحل تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑا بتایا جاتا ہے۔ وہ دہلی یونیورسٹی کے اسکول آف اوپن لرننگ کا طالب علم ہے اور اپنی تعلیم کے ساتھ SSC CGL اور پولیس بھرتی کے امتحانات کی تیاری کر رہا تھا۔ساحل کا خواب پولیس فورس میں شامل ہو کر عوام کی خدمت کرنا تھا۔ لیکن آج وہ خود علاج اور انصاف کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔