بھارتی ٹرین کے اندر مذہبی تقریب کو انجام دیتے ہوئے ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔چلتی ٹرین کے ڈبے میں پوجا کی تقریب منعقد کی گئی۔ یہ واقعہ 'ہنی مون کوچ' واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کی وجہ سے ریلوے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
چلتی ریل میں مذہبی تقریب کی ویڈیو وائرل
یہ کلپ وائرل "ہنی مون کوچ" ویڈیو کے فوراً بعد منظر عام پر آیا اور اس بارے میں سوالات اٹھائے کہ آیا ٹرین کے ڈبوں کے اندر اس طرح کی رسومات کی اجازت ہے۔ ایکس پر شیئر کی گئی اس ویڈیو میں ایک پجاری کو ٹرین کے ڈبے کے فرش پر بیٹھا پوجا کی رسومات ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کئی عقیدت مند، جن میں سے زیادہ تر سفید لباس پہنے ہوئے تھے، پوجا میں حصہ لیتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔
صارفین کا وزیر ریلوے سے سوال؟
فیکٹ چیک کرنے والے محمد زبیر نے وزیر ریلوے اشونی وشنو سے نئی دہلی سے ممبئی جانے والی پچھم ایکسپریس سے منسلک سیلون کار کے اندر ہندو مزہبی رسم کی منظوری اور طریقہ کار پر سوال کیا۔
ریلوے کی وضاحت
ویڈیو کے آن لائن گردش کرنے کے بعد، ناردرن ریلوے نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے وضاحت جاری کی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مذہبی تقریب ایک عام مسافر کوچ کے اندر نہیں بلکہ نجی طور پر بک کی گئی سیلون کار کے اندر ہوئی تھی۔ناردرن ریلوے نے کہا کہ پوجا ایک خصوصی سیلون کار میں منعقد کی گئی تھی جسے ایک پرائیویٹ پارٹی نے IRCTC کے ذریعے بک کیا تھا۔ سیلون کار ایک نجی اور پرتعیش ریلوے کوچ ہے جس کا مقصد اعلیٰ عہدے داروں اور VIPs کے لیے ہے۔ اس میں ایئر کنڈیشنڈ بیڈروم، ایک کچن، رہنے اور کھانے کا کمرہ، منسلک واش رومز اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔بکنگ پارٹی کی طرف سے رسم کے ساتھ اور کسی زخمی یا حفاظتی سمجھوتہ کی اطلاع نہیں دی گئی۔
8 جولائی کوکی گئی تھی بکنگ
ناردرن ریلوے کے مطابق، سیلون کارکو IRCTC نے 8 جولائی کو بک کیا تھا۔ ریلوے زون نے کہا کہ پارٹی نے کمرشل بکنگ کے طور پر 3,08,580 روپے کی پیشگی ادائیگی کی تھی۔ اس میں مزید کہا گیا کہ سیلون کار کو 10 جولائی کو نئی دہلی (NDLS) سے ممبئی (BDTS) تک یک طرفہ سفر کے لیے ٹرین نمبر 12926 Paschim ایکسپریس سے منسلک کیا جانا تھا۔
قانون کے نفاذ میں امتیازی سلوک نہ ہو
واضح رہےکہ اس سے پہلے بھی ریل میں مسافروں کی جانب سے انفرادی اور اجتماعی طور پرمذہبی رسومات اورعبادت کرتے ہوئے ویڈیو وائرل ہو چکےہیں۔ اجتماعی طور پر بھجن، ہنومان چالسیہ پڑھنے کے ویڈیوز بھی وائرل ہوئےہیں۔ اس پر ریلوے نے اعتراض نہیں کیا۔ لیکن بعض ویڈیوزمیں مسلم فرد کی جانب سے خاموشی سے دوسروں کو تکلیف دیئے بغیرنماز پڑھنے پراعتراض کیا گیا اور کیس بک کرنے کے معاملے بھی سامنے آئے۔ اور تو اور داڑھی ٹوپی رکھنے والے مسافروں کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ اور مارپیٹ کےبعد ٹرین سے نیچے گرانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ جانیں بھی چلی گئیں۔
ایسے معاملوں سے یہ ظاہر ہوتاہےکہ ریلوے کی جانب سے کسی خاص مذہب کے لوگوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ جمہوری اور سیکولر ملک میں قانون کی عمل آواری کا ایک ہی پیمانہ ہونا چاہئے۔