گجرات: راجکوٹ شہر میں میونسپل حکام نے بڑے پیمانے پر انسداد تجاوزات مہم شروع کر دی ہے۔ ۔حکام کے مطابق 1 ہزار 489غیر قانونی املاک کو منہدم کیا جائے گا۔ راجکوٹ میونسپل کارپوریشن نے پولیس کی مدد سے جنگلیشور علاقے میں کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ میونسپل کمشنر تشار سمیرا نے بتایا کہ املاک آجی ندی کے کنارے اور ٹاؤن پلاننگ روڈ پر قائم تھیں۔ یہاں سنجیچر کے روز سے سے مکانات خالی کرائے جا رہے ہیں۔
آپریشن کے لیے 1 ہزار 200سے زائد میونسپل اہلکار اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ۔حکام کا کہنا ہے کہ کئی لوگ پُرامن طریقے سے مکانات خالی کر رہے ہیں۔ اور انہیں سامان منتقل کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ انہدامی کارروائی قواعد کے مطابق انجام دی جا رہی ہے۔۔اس علاقے میں لوگ برسوں سے مقیم تھے ۔ اور اب انہیں اپنے گھر بار چھوڑنا پڑ رہا ہے۔ اور وہ اپنے مستقبل کو لے کر پریشان ہیں۔ سرکاری انتظامیہ انہیں بے گھر کر رہا ہے۔گجرات کے ڈپٹی چیف منسٹر ہرش سَنگھوی کی ایماء پر یہ کاروائیاں انجام دی جارہی ہیں۔
خوف اور مجبوری: مکینوں نے اپنے گھر خود گرا دیے
انتظامیہ کی جانب سے جاری سخت حتمی مہلت کے بعد علاقے میں افراتفری کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ بلڈوزر اور بلدیاتی عملے کے پہنچنے سے پہلے ہی کئی مکینوں نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سے تعمیر کیے گئے گھروں کو خود ہی مسمار کرنا شروع کر دیا۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری مشینری گھر گراتی تو ملبہ ہٹانے کے اخراجات اور بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑتا، اس لیے انہوں نے خود ہی یہ قدم اٹھانا مناسب سمجھا۔
سخت حفاظتی انتظامات
کسی بھی ناخوشگوار صورت حال یا احتجاج سے نمٹنے کے لیے جنگلیشور علاقے میں پولیس کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔ انتظامی عملہ اور بلدیہ کے اعلیٰ افسران موقع پر موجود رہ کر کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔
بے گھر خاندانوں کی تشویش
ایک ہی وقت میں ایک ہزار چار سو سے زائد گھروں کے خلاف اس کارروائی سے ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ مقامی آبادی میں انتظامیہ کے خلاف ناراضی بھی پائی جاتی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ یہاں کئی دہائیوں سے مقیم تھے اور اچانک اس کارروائی نے انہیں سڑک پر لا کھڑا کیا ہے۔