Saturday, September 05, 2026 | 21 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سہارنپور مسجد شہید: کیا مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی کا آئینی حق ختم ہو چکا ہے؟

سہارنپور مسجد شہید: کیا مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی کا آئینی حق ختم ہو چکا ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 05, 2026 IST

سہارنپور مسجد شہید: کیا مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی کا آئینی حق ختم ہو چکا ہے؟
سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو ہفتے کی صبح بلڈوزر کے ذریعے مسجد کو  شہید کردیا گیا۔ سٹی مجسٹریٹ نے گزشتہ ماہ مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے انہدام کا حکم دیا تھا۔ مسجد فریق نے اس فیصلے کے خلاف ضلع و سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق جمعہ کو ضلع جج کی عدالت نے مسجد فریق کی جانب سے دائر دعوے کو مسترد کردیا۔ مسلم فریق کی اپیل مسترد کیے جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد  ہی انتظامیہ نے مسجد کے خلاف کاروائی کی ۔ کلکٹریٹ احاطے کے اطراف بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی اور متعدد گیٹ بند کردیے گئے۔ سیاسی رہنماؤں اور مقامی افراد کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی گئی۔ مسجد پر کاروائی سے پہلے علاقہ میں کشیدگی کا ماحول د یکھا گیا ۔مسجد کے انہدام  پر اویسی، اکھلیش، مایاوتی، اور دیگر لیڈروں نے سخت رد عمل ظاہر کیا۔ اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

پولیس فورس تعینات، لیڈرز ہاؤس اریسٹ

 اتر پردیش کے سہارنپور میں کلکٹریٹ والی مسجد  کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد یوگی حکومت کے  انتظامیہ نے اس پر بلڈوزر بھی چلا دیا۔مسجد کی انہدامی کاروائی سے قبل سہارنپور میں رات بھر سیاسی سرگرمیاں اور افواہیں جاری رہیں۔ کلکٹریٹ احاطے کے اطراف بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی اور متعدد گیٹ بند کردیے گئے۔ سیاسی رہنماؤں اور مقامی افراد کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی گئی۔ مسجد کے خلاف انتظامی کاروائی اور اقرا حسن کو ہاؤس اریسٹ کیے جانے کے بعد معاملہ مزید سیاسی رنگ اختیار کرگیا ہے۔ ایک طرف انتظامیہ عدالتی حکم کے بعد کاروائی کا حوالہ دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن رہنما اس اقدام اور اقرا حسن کو روکے جانے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

اتر پردیش کی سیاسی صورتحال گرما گئی

ضلع عدالت کی جانب سے مسلم فریق کی اپیل مسترد کیے جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد  ہی انہدامی کاروائی  نے اتر پردیش کی سیاسی صورتحال کو انتہائی گرم کر دیا ہے۔ کاروائی کی مخالفت کے خدشے کے پیش نظر کیرانہ سے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو دیر رات ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا۔ وہیں سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود، بی ایس پی سربراہ مایاوتی اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے حکومت اور انتظامیہ کے طریقہ کار پر سخت تنقید کی ہے۔

مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی کا آئینی حق ختم ہو چکا ہے؟- اسدالدین اویسی

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے انہدام کی کاروائی کو مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کمیٹی نے 1911 کے سرکاری دستاویزات پیش کیے تھے، جو ثابت کرتے ہیں کہ وہاں ایک صدی سے زیادہ عرصے سے نماز ادا کی جا رہی تھی۔اویسی نے کہا کہ قانون کے تحت یہ معاملہ واضح طور پر 'وقف بائی یوزر' (Waqf by User) اور ایڈورس پزیشن (Adverse Possession) کے زمرے میں آتا ہے۔ حکومت 100 سال بعد اچانک بیدار ہو کر جائیداد پر دعویٰ نہیں کر سکتی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی کا آئینی حق ختم ہو چکا ہے؟ محض کسی کو بے آرامی یا ناگواری محسوس ہونے کی وجہ سے کسی تاریخی مذہبی مقام پر بلڈوزر نہیں چلایا جا سکتا۔سہارنپور کی اس کارروائی نے ایک بار پھر اتر پردیش میں مذہبی مقامات اور املاک پر بلڈوزر ایکشن کے قانونی اور انسانی پہلوؤں کو لے کر قومی سطح پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
 
 

'مسجد' لفظ سے نفرت کیوں؟

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ہفتہ کے روز سہارنپور ضلع کلکٹریٹ کمپلیکس کے اندر مبینہ طور پر غیر قانونی مسجد کو صبح سویرے منہدم کرنے پر اتر پردیش حکومت سے سوال کیا۔ "حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور صبح 5 بجے مسجد کو منہدم کر دیا، یہ ثابت کرتا ہے کہ بی جے پی کی یوگی حکومت نہیں چاہتی تھی کہ یہ معاملہ اعلیٰ عدالت تک پہنچے کیونکہ وہ غلط تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی، وزیر اعظم اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ میں 'مسجد' لفظ سے نفرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دلوں میں مسجد اور بی جے پی حکومت کا خوف پیدا کرنے کا خوف ہے۔

خدائی انصاف غالب آئے گا: اویسی 

 ایک نیوز ایجنسی  نے اویسی کے حوالے سے کہا کہ اتر پردیش اور خود بی جے پی پارٹی خاص طور پر مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت کو مؤثر طریقے سے ختم کر رہی ہے۔ اویسی نے مسجد کے حکام کو قانونی مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا، "اگر یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کو لگتا ہے کہ وہ قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اور بنیادی حقوق کو پامال کرکے آئین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کر کے انتخابی فائدہ حاصل کریں گے، تو وہ غلط ہیں۔ میں مسجد کی انتظامیہ کمیٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے کسی بھی قانونی مدد کے لیے تیار ہوں۔ خدائی انصاف غالب آئے گا، اور انہیں اس کی قیمت آئینی اور قانونی طور پر ادا کرنی پڑے گی۔"
 
 

آپ لوگوں کے انصاف کا حق چھین رہے ہیں: اکھیلش  یادو

 یوگی حکومت کے100دن باقی: اکھلیش کا دعویٰ
ایس پی سپریمو اکھلیش یادو نے بھی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا تھا۔ "کیا ہائی کورٹ میں انصاف نہیں مل سکتا تھا؟ کیا وہ سپریم کورٹ میں اپیل نہیں کر سکتے تھے؟ افسران نے حکومت کے کہنے پر ملی بھگت سے یہ کاروائی کی تاکہ انہیں اعلیٰ عدالت میں انصاف نہ مل سکے۔ آپ لوگوں کا انصاف کا حق چھین رہے ہیں؛ اسی لیے میں نے کہا کہ صرف سو دن باقی ہیں،" 

دوسرے مذہب کا احترام نہیں کرنے والے سناتنی نہیں ہو سکتے

انہوں نے کہا۔ "جو لوگ دوسرے مذاہب کا احترام نہیں کرتے وہ کبھی سناتنی نہیں ہو سکتے۔ جو دوسروں کے عقیدے کو چھوٹا کرتے ہیں وہ کبھی سناتنی نہیں ہو سکتے۔ ایک سچا ہندو کبھی بھی دوسرے کی توہین نہیں کر سکتا، یہ ہم نے 'سناتن دھرم' میں سیکھا ہے... سچے سناتنی وہ لوگ ہیں جو ہم آہنگی کو عزیز رکھتے ہیں؛ ہم آہنگی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ بھگوان شری رام کے لیے ، سب جانتے ہیں کہ بی جے پی کے ممبران کو ایس آئی ٹی بنانے اور لوگوں کو جیل بھیجنے کے اقدام سے اب پتہ چل گیا ہے کہ وہ کس طرح کے لوگ ہیں، اس لیے وہ جان بوجھ کر اسے فرقہ وارانہ رنگ دے رہے ہیں۔

مسجدوں کو غزہ کی طرح شہید کیا جا رہا ہے: عمیق جموئی

 سماج وادی پارٹی کے لیڈر  عمیق  جموئی  نے یوپی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے اس کاروائی کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا، "مسجدوں کو غزہ کی طرح شہید کیا جا رہا ہے،ایک مسلمان ہونے کے ناطے میں اپنی توہین محسوس کر رہا ہوں، ہمیں اجنبیوں جیسا محسوس کرایا جا رہا ہے۔"عمیق جموئی وہیں نہیں رکے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں غزہ کی طرح ہماری عبادت گاہیں اور مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے، ہمیں کراہنا بھی نہیں چاہیے، ہمیں قانونی مواقع بھی نہیں دیے گئے، اس ملک کی مٹی کو خون دینے میں ہمارا کیا قصور تھا؟ جس ملک میں ہندوؤں نے مساجد بنانے میں مدد کی، جہاں مسلمانوں نے مندروں کے لیے زمین عطیہ کی، کیوں بی جے پی سماج کو اس طرح سے تقسیم کر کے فنڈز کو تقسیم کرنے کے لیے زہر گھول رہی ہے۔

ایس پی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن ہاؤس اریسٹ

مسجد منہدم کیے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد سہارنپور جانے کی تیاری کر رہی کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کی رہائش گاہ پر بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا گیا۔ اقرا حسن نے انتظامیہ کے اس اقدام کو آمریت قرار دیتے ہوئے کہا:''کیا عوام کی آواز اٹھانا اور افسران سے ملاقات کرکے پُرامن طریقے سے بات کرنا جرم ہے؟ عوامی نمائندوں کو اس طرح گھروں میں قید کرکے عوام کے مسائل کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ہم افسران کے سامنے قانونی پہلو رکھنا چاہتے تھے، لیکن ہمیں اپنی بات رکھنے کا موقع تک نہیں دیا گیا۔''
 
 
 

'مساجد کو عجلت میں منہدم کرنا غلط' - مایاوتی

بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ  مایاوتی نے سوشل میڈیا پر تفصیلی ردعمل دیتے ہوئے انتظامیہ کے رویے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ریاست میں مساجد کو عجلت میں غیر قانونی قرار دے کر منہدم کرنے کی حکومتی مہم درست نہیں ہے۔ حکومت کو ایسے منفی ماحول سے بچنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا یکساں احترام اور تحفظ کرے۔ قوانین اور ضوابط کی پابندی کیے بغیر بلڈوزر چلا کر پورے خاندان کو بے گھر کرنے کی کاروائیوں سے لوگ پریشان ہیں۔ ریاست میں 'قانون کے ذریعے قانون کی حکمرانی' کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالتوں سے بھی اس جانب توجہ دینے کی اپیل کی۔

'ہتھوڑا مسجد پر نہیں، آئین پر چلایا '- عمران مسعود

سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے انہدام میں عجلت پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رات کو عدالت کا فیصلہ آتا ہے اور صبح ہوتے ہی مسجد گرا دی جاتی ہے۔ یہ ہتھوڑا مسجد پر نہیں بلکہ آئین پر چلایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ زمین کی ملکیت کا حق آج بھی واحد خان اور یعقوب خان کے نام درج ہے۔ اس پر لمیٹیشن ایکٹ لاگو ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ کو فریق تک نہیں بنایا گیا۔ عمران مسعود نے سہارنپور کے عوام سے تحمل برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لڑائی کو قانونی طور پر الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک لے جائیں گے۔

مسلم فریق معاملے کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا ارادہ کیا 

مسلم فریق نے دلیل دی ہے کہ سٹی مجسٹریٹ نے مسجد کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا لیکن خاص طور پر اسے گرانے کا حکم نہیں دیا تھا۔سابق  ایم پی  فضل الرحمان نے انتظامیہ سے جلد بازی سے کام نہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ معاملہ قانونی طور پر ہائی کورٹ میں لڑا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسجد کے پاس قانونی چارہ جوئی کے لیے 22 دن باقی ہیں۔