Wednesday, June 17, 2026 | 30 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ارکان پارلیمنٹ کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش: سنجے راوت کا الزام ،باغیوں کو مستعفی ہونے کا چیلنج

ارکان پارلیمنٹ کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش: سنجے راوت کا الزام ،باغیوں کو مستعفی ہونے کا چیلنج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 17, 2026 IST

ارکان پارلیمنٹ کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش: سنجے راوت کا الزام ،باغیوں کو مستعفی ہونے کا چیلنج
شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر سنجے راوت نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ مہاراشٹر کے کچھ ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی چھوڑ کر دوسری طرف جانے کے لیے "50 کروڑ روپے" کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے باغی ارکان کو چیلنج کیا کہ اگر وہ  پارٹی بدلنا  چاہتے ہیں تو پہلے استعفیٰ دیں۔ یہ بیان ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی پارٹی میں ممکنہ تقسیم کی بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے درمیان سامنے آیا ہے۔
 
نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راوت نے کہا کہ اگر 2022 کی بغاوت کی طرح شیوسینا (یو بی ٹی) کو دوبارہ توڑنے کی کوشش کی گئی تو مہاراشٹر کے عوام اور پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ خاموش نہیں رہیں گے۔شیوسینا (یو بی ٹی) کے لوک سبھا میں موجود 9 ارکان میں سے صرف اروند ساونت، انیل دیسائی اور راجابھاؤ واجے پریس کانفرنس میں شریک ہوئے۔
 
راوت نے کہا کہ ایک "اہم شخص" نے منگل کی رات انہیں بتایا کہ مہاراشٹر کے ارکان پارلیمنٹ کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا، "مجھے بتایا گیا کہ قیمت 50 کروڑ روپے طے ہوئی ہے اور 15 کروڑ روپے فی شخص آج رات تک پہنچائے جائیں گے۔ مبینہ طور پر وہ رقم ملنے سے پہلے طیارے میں سوار ہونے کو تیار نہیں تھے۔"
 
راجیہ سبھا کے رکن راوت نے تاہم کہا کہ پارٹی کے پاس کسی تقسیم کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ہے اور یہ خبریں صرف میڈیا کے ذریعے سامنے آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا، "اگر پارٹیوں کو اس طرح توڑا جائے تو انتخابات لڑنے کا کوئی مطلب باقی نہیں رہ جاتا۔"راوت نے کہا کہ تمام متعلقہ ارکان پارلیمنٹ ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے انتخابی نشان "مشعل" پر منتخب ہوئے ہیں اور "کسی کو بھی اس مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ کرنے کا حق نہیں ہے۔"
 
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 2022 میں متحدہ شیوسینا کی تقسیم جیسے حالات دوبارہ پیدا ہوئے تو مہاراشٹر کے عوام اور پارٹی کارکنان سخت ردعمل دیں گے۔راوت نے کہا، "اگر کوئی جانا چاہتا ہے تو پہلے استعفیٰ دے۔ وہ ہماری پارٹی کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ پہنچے ہیں اور عوام نے انہیں منتخب کیا ہے۔"
انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے اور جمعرات کو ہونے والی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کے لیے وہپ جاری کیا گیا ہے۔
 
راوت کے مطابق پارٹی رہنماؤں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو بھی خط لکھا ہے اور آئینی دفعات کے مطابق کارروائی کی اپیل کی ہے۔اروند ساونت نے کہا کہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ نے پارٹی کو باضابطہ طور پر چھوڑنے کے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا ہے اور تمام خبریں میڈیا اور سوشل میڈیا سے آ رہی ہیں۔ انیل دیسائی نے کہا کہ پارٹی کو اپنے ارکان پارلیمنٹ پر اعتماد ہے، تاہم احتیاط کے طور پر قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
 
شیوسینا (یو بی ٹی) رہنماؤں نے الزام لگایا کہ منتخب نمائندوں کو "خریدنے اور توڑنے" کی سیاست جمہوریت اور آئین کے لیے خطرہ ہے۔راوت نے کہا کہ کچھ ارکان پارلیمنٹ نے ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کے دوران وفاداری کے حلف بھی لیے تھے۔انہوں نے کہا، "ہم نے ان ارکان کے لیے خون پسینہ بہایا، انہیں ٹکٹ دیے اور ہر ممکن مدد کی۔ اگر ایسی خبریں درست ہیں تو انہیں انکار کرنا چاہیے۔"
 
راوت نے الزام لگایا کہ دھاراشیو کے رکن پارلیمنٹ اوم پرکاش راجے نمبالکر پر بھی دباؤ ڈالا گیا۔ ان کے مطابق نمبالکر کے والد کے 20 سال پرانے قتل کیس کے فیصلے کے حوالے سے انہیں مبینہ طور پر پارٹی تبدیل کرنے کے لیے کہا گیا۔انہوں نے سوال کیا، "اگر ایسا ہو رہا ہے تو آئین، عدالتوں اور جمہوریت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟"
 
سنجےراوت نے کہا کہ جمعرات کی پارلیمانی پارٹی میٹنگ میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جو کچھ پارٹی نے ہمیں دیا ہے ہم اسے نہیں بھول سکتے۔ بالاصاحب ٹھاکرے نے ہمیں بیٹوں کی طرح رکھا اور ادھو ٹھاکرے نے ہمیشہ بھائیوں جیسا برتاؤ کیا۔"