مرکزی حکومت کی جانب سے ری نیٹ کے دوبارہ امتحان سے قبل ٹیلی گرام پر عارضی پابندی عائد کیے جانے کے بعد سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پیپر لیک مافیا کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے طلبہ کو سزا دے رہی ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ لاکھوں طلبہ کئی برسوں سے ٹیلی گرام کو اپنی تعلیم، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثوں اور امتحانی تیاری کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک تعلیمی ذریعہ بند کرنے سے پیپر لیک جیسا سنگین مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ شخص کے گھر پر تالا لگا دیا جائے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ پیپر لیک مافیا کو بھی معلوم ہے کہ صرف ایک ایپ پر پابندی لگانے سے غیر قانونی سرگرمیاں نہیں رکیں گی، کیونکہ ایسے عناصر دوسرے ذرائع استعمال کر سکتے ہیں۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ امتحان کے دن سخت انتظامات، طلبہ کی تلاشی، اور سوالیہ پرچوں کی انتہائی سیکیورٹی کے باوجود مسئلے کی اصل جڑ یعنی پیپر لیک مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو نشانہ بنانے کے بجائے مافیا کے خلاف سخت قدم اٹھائے جائیں اور نوجوانوں کی آواز سنی جائے۔
دوسری جانب ٹیلی گرام کے بانی نے بھی حکومت کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد کی جانب سے امتحانی پرچے شیئر کرنے کی وجہ سے 15 کروڑ سے زائد بھارتی صارفین کو متاثر کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندی کے باوجود لیک ہونے والے مواد کی ترسیل دیگر ایپس کے ذریعے جاری رہی۔
ٹیلی گرام کے سی ای او نے بتایا کہ کمپنی نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امتحانی مواد اور دھوکہ دہی سے متعلق سینکڑوں چینلز کو ہٹا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلیٹ فارم پر غلط معلومات اور بیک ڈیٹنگ جیسے گھوٹالوں کو روکنے کے لیے "ایڈیٹڈ" لیبل کو مزید نمایاں بنایا جا رہا ہے۔ ٹیلی گرام انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پورے پلیٹ فارم پر عارضی پابندی لگانا مسئلے کا مؤثر حل نہیں ہے، بلکہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔