منصف ٹی وی کی جانب سے نشر کیے جانے والے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘میں آج ایک نہایت اہم اور عام صحت کے مسئلے بے خوابی (Insomnia) پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اس پروگرام میں معروف انٹروینشنل پلمونولوجسٹ اور سلیپ اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہرشنی ایرابلی نے بطور مہمان شرکت کی اور ناظرین کو اس مرض کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا۔
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
ڈاکٹر ہرشنی ایرابلی نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ بے خوابی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں فرد کو نیند آنے میں دشواری ہوتی ہے، بار بار آنکھ کھل جاتی ہے یا پھر نیند پوری ہونے کے باوجود تھکن اور سستی محسوس ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ وقتی بھی ہو سکتا ہے اور طویل المدت بھی، جسے کرونک انسومنیا کہا جاتا ہے۔ اگر یہ کیفیت تین ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے تو اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بے خوابی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں ذہنی دباؤ، اضطراب، ڈپریشن، موبائل اور اسکرین کا زیادہ استعمال، کیفین کا زیادہ استعمال، بے ترتیب طرزِ زندگی اور بعض طبی امراض شامل ہیں۔ بعض اوقات سانس سے متعلق مسائل، جیسے نیند کے دوران سانس رکنا (Sleep Apnea)، بھی بے خوابی کا سبب بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ہرشنی کے مطابق بے خوابی کے اثرات صرف نیند تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ یادداشت کی کمزوری، چڑچڑاپن، کام میں عدم توجہ، قوتِ مدافعت میں کمی، بلڈ پریشر، شوگر اور دل کے امراض کے خطرے کو بھی بڑھا دیتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں میں یہ تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے جبکہ بڑوں میں پیشہ ورانہ زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
علاج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے طرزِ زندگی میں بہتری لانا ضروری ہے، جیسے سونے اور جاگنے کا وقت مقرر کرنا، سونے سے پہلے موبائل اور ٹی وی کا استعمال کم کرنا، کیفین سے پرہیز اور پرسکون ماحول میں نیند کی عادت ڈالنا۔ بعض مریضوں کے لیے کاؤنسلنگ، سلیپ تھراپی یا ضرورت پڑنے پر ادویات بھی تجویز کی جاتی ہیں، مگر خود سے دوائی لینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر ہرشنی ایرابلی نے ناظرین کو مشورہ دیا کہ اگر نیند کا مسئلہ مسلسل ہو تو ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ منصف ٹی وی کا یہ پروگرام عوام میں صحت سے متعلق آگاہی بڑھانے کی ایک اہم کوشش ہے۔