• News
  • »
  • صحت
  • »
  • سوشل میڈیا اور تعلیمی دباؤ: نوجوان نسل پر بڑھتے اثرات

سوشل میڈیا اور تعلیمی دباؤ: نوجوان نسل پر بڑھتے اثرات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 31, 2026 IST

سوشل میڈیا اور تعلیمی دباؤ: نوجوان نسل پر بڑھتے اثرات
منصف ٹی وی کے مقبول خصوصی پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج ایک نہایت اہم اور بروقت موضوع پر تفصیلی گفتگو پیش کی گئی، جس کا عنوان تھا:Are our Teenagers really doing okay?۔ اس پروگرام میں معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شیوانی کوہلی نے نوجوانوں کی ذہنی اور جذباتی صحت کے حوالے سے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
 
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
 

پروگرام میں بتایا گیا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، تعلیمی دباؤ اور سماجی توقعات نے نوجوانوں کی زندگی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بظاہر خوش اور مصروف نظر آنے والے کئی نوجوان اندرونی طور پر ذہنی دباؤ، اضطراب (Anxiety)، ڈپریشن اور خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر شیوانی کوہلی کے مطابق، یہ مسائل اکثر خاموشی سے بڑھتے ہیں اور بروقت توجہ نہ ملنے پر سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
 
انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں میں ذہنی مسائل کی چند نمایاں علامات میں موڈ میں اچانک تبدیلی، تنہائی اختیار کرنا، نیند کی کمی یا زیادتی، پڑھائی میں دلچسپی کا ختم ہونا اور غصے میں اضافہ شامل ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ان علامات کو سنجیدگی سے لیں اور نوجوانوں کے ساتھ دوستانہ اور کھلا مکالمہ قائم کریں۔
 
پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ مسائل کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خاندانی ماحول، والدین کی عدم توجہی، مسلسل تنقید، تعلیمی دباؤ اور سوشل میڈیا پر موازنہ (comparison) نوجوانوں کی ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، نیند کی کمی اور جسمانی سرگرمیوں کا فقدان بھی اہم عوامل میں شامل ہیں۔
 
علاج کے حوالے سے ڈاکٹر شیوانی کوہلی نے بتایا کہ سب سے پہلا قدم مسئلے کو تسلیم کرنا ہے۔ اس کے بعد ماہرِ نفسیات سے مشورہ، کاؤنسلنگ، اور بعض صورتوں میں ادویات بھی تجویز کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ والدین بچوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی بات سنیں۔
 
مزید برآں، نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں، جیسے کھیل، مطالعہ، اور تخلیقی مشاغل۔ سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنا اور صحت مند روزمرہ معمول اپنانا بھی ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
 
پروگرام "ہیلتھ اور ہم" نے اس حساس موضوع کو اجاگر کرتے ہوئے معاشرے کو یہ پیغام دیا کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا ایک سنگین غلطی ہو سکتی ہے، اور بروقت رہنمائی و مدد ہی ایک صحت مند نسل کی ضمانت ہے۔