راجستھان کے دارالحکومت جے پور (جو گلابی شہر کے نام سے مشہور ہے) میں گلابی ہاتھی کو لے کر ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔روسی فوٹوگرافر جولیا برولیوا نے گزشتہ سال جے پور میں ایک آرٹ پروجیکٹ کیا تھا۔ اس پروجیکٹ کے تحت انہوں نے 70 سالہ ہاتھی کو گلابی رنگ میں رنگ کر فوٹوشوٹ کیا۔ فوٹوشوٹ کے چند ماہ بعد ہاتھی کی موت ہو گئی اور یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس کے بعد شدید تنازع شروع ہو گیا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
جولیا بارسلونا میں رہنے والی روسی ٹریولنگ آرٹ فوٹوگرافر ہیں۔ وہ گزشتہ سال 6 ہفتوں کے لیے راجستھان میں تھیں۔ جے پور کے گلابی رنگ، تاریخی مقامات اور راجستھانی ثقافت سے متاثر ہو کر انہوں نے ایک آرٹ پروجیکٹ تیار کیا۔
نومبر 2025 میں انہوں نے ایک ویران گنیش مندر میں ایک ماڈل کے ساتھ 70 سالہ ہاتھی کو گلابی رنگ میں رنگ کر فوٹو شوٹ کیا۔ یہ فوٹو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جنگلی حیات کے شائقین نے شدید غصہ کا اظہار کیا۔
تنازع کیوں کھڑا ہوا؟
جس ہاتھی کو رنگا گیا تھا، اس کا نام چنچل تھا۔ اسے ہولی کے گلال سے رنگا گیا تھا۔ تاہم، فوٹوشوٹ کے صرف 30 منٹ بعد ہی اسے دھو دیا گیا تھا۔ اس کے بعد فروری 2026 میں چنچل کی موت ہو گئی۔
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ہاتھی کی موت فوٹوشوٹ یا رنگ کی وجہ سے ہوئی، لیکن لوگوں نے دونوں واقعات کو آپس میں جوڑ دیا۔ اب جنگلات کا محکمہ اس بات کی جانچ کر رہا ہے کہ کیا قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
جولیا کا دفاع:
جولیا نے اپنے دفاع میں انسٹاگرام پر ایک لمبا پوسٹ لکھا۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں ہاتھی ایک اہم علامت ہے، اس لیے وہ اس کے بغیر فوٹوشوٹ نہیں کر سکتی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہاتھی کو وہی گلال لگایا تھا جو ہالی پر استعمال کیا جاتا ہے۔جو جانوروں کے لیے بھی محفوظ ہے۔ فوٹوشوٹ کے 10 منٹ بعد ہی اسے دھو دیا گیا تھا۔تاہم، جنگلی حیات کے شائقین اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جولیا AI کی مدد سے بھی ہاتھی کو گلابی دکھا سکتی تھیں۔تنازع اب بھی جاری ہے اور جنگلات کے محکمے کی جانب سے تحقیقات چل رہی ہیں۔