جنوب مغربی مانسون ایک بار پھر ملک کے بیشتر حصوں میں سرگرم ہو گیا ہے، جس کے باعث کئی ریاستوں میں موسلادھار بارش، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اتراکھنڈ، اڈیشہ، چھتیس گڑھ اور شمال مشرقی ریاستوں میں شدید بارش نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیا ہے، جبکہ مختلف حادثات میں کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اتراکھنڈ میں بارش اور مٹی کے تودے گرنے سے الگ الگ واقعات میں تین بچوں سمیت 11 افراد کی موت ہو گئی۔ ہلدوانی کے قریب ایک گاؤں میں پیر کی رات مٹی کا تودہ ایک گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کے دو بچے ملبے تلے دب کر جان کی بازی ہار گئے۔
اسی طرح ضلع دھار کے علاقے ٹونی میں رات دیر گئے پہاڑی سے گرنے والے ملبے کی زد میں آ کر دو افراد ہلاک ہو گئے۔ بھیمتل بائی پاس پر ایک افسوسناک واقعے میں چار سالہ بچی نالے میں بہہ گئی، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہو گئی۔ مسلسل بارش اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے انتظامیہ اور مقامی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب آسام کے گوہاٹی میں بھی شدید بارش کے بعد مٹی کا تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت چار لوگ زندہ دب گئے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں بارش کے باعث کئی علاقوں میں آمدورفت اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
محکمہ موسمیات نے فعال مانسون کے پیش نظر ہماچل پردیش اور ہریانہ سمیت کم از کم 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 7 ستمبر تک شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔ چھتیس گڑھ، اڈیشہ، بہار، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں بھی موسلادھار بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام نے لوگوں کو احتیاط برتنے اور متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
ادھر اتر پردیش کے پریاگ راج میں گنگا اور یمنا ندیوں کی سطح آب میں تیزی سے اضافے کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ دریا کنارے واقع کئی بستیاں زیر آب آ گئی ہیں، جس کے بعد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ پریاگ راج میں تقریباً 15 خاندانوں کے 60 افراد کو بے گھر ہونے کے بعد ایک اسکول میں قائم امدادی کیمپ میں پناہ دی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کو خوراک، پینے کا پانی اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ علاقے میں صفائی ستھرائی اور صحت سے متعلق انتظامات پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
گنگا اور یمنا کے پانی کی سطح میں اضافے نے نہ صرف گھروں کو متاثر کیا ہے بلکہ مقامی لوگوں کی روزی روٹی پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد، جو اپنی آمدنی کے لیے گھاٹوں اور دریا کے کنارے ہونے والی سرگرمیوں پر انحصار کرتے ہیں، شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں مانسون کی شدت برقرار رہنے کے خدشے کے درمیان انتظامیہ الرٹ ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امداد اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔