بچوں کی نشوونما ہر گھر کا سب سے حساس اور اہم موضوع ہوتی ہے۔ کچھ بچے جلد بولنا شروع کر دیتے ہیں تو کچھ کو وقت لگتا ہے۔ اسی طرح کوئی بچہ ایک سال کے اندر چلنے لگتا ہے جبکہ کوئی چند ماہ بعد قدم اٹھاتا ہے۔ لیکن جب بولنے میں تاخیر (اسپیچ ڈیلے) یا دیر سے چلنے (لیٹ واکنگ) جیسی علامات سامنے آئیں تو والدین کے ذہن میں تشویش پیدا ہونا فطری بات ہے۔
منصف ٹی وی کےپروگرام “ہیلتھ اور ہم” میں کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک نیورولوجسٹ ڈاکٹر امول کمار جادھو نے اس اہم موضوع پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہر تاخیر معمولی نہیں ہوتی، بعض اوقات اس کے پیچھے کوئی بنیادی طبی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر بچہ چھ ماہ کی عمر تک بیبلنگ (ماں، با، دا جیسی آوازیں) شروع نہ کرے، ایک سال تک کوئی واضح لفظ ادا نہ کر سکے یا دو سال کی عمر میں دو الفاظ جوڑ کر جملہ نہ بنا پائے تو یہ تشویش کی علامت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق بچے کی سماعت، سمجھنے کی صلاحیت اور ردعمل بہت اہم ہوتے ہیں۔ اگر بچہ نام پکارنے پر جواب نہ دے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرے یا دوسروں سے میل جول میں دلچسپی نہ لے تو فوری توجہ ضروری ہے۔ بعض اوقات سماعت کے مسائل، آٹزم، پیدائش کے وقت آکسیجن کی کمی، قبل از وقت پیدائش یا جینیاتی بیماریاں بھی اسپیچ ڈیلے کا سبب بن سکتی ہیں۔
اسی طرح لیٹ واکنگ کے بارے میں بتایا گیا کہ عام طور پر بچہ 12 سے 15 ماہ کے درمیان چلنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر 18 ماہ تک بچہ خود سے نہ چل سکے تو ماہرِ اطفال سے رجوع کرنا چاہیے۔ پٹھوں کی کمزوری، وٹامن ڈی کی کمی، دماغی نشوونما میں رکاوٹ یا سیریبرل پالسی جیسی وجوہات بھی تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو اسکرین ٹائم سے مکمل طور پر دور رکھا جائے۔ زیادہ موبائل یا ٹی وی استعمال کرنے والے بچوں میں بولنے اور سماجی مہارتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات کریں، کھیلیں اور ان کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کریں۔
ڈاکٹر امول جادھو کے مطابق ابتدائی مداخلت (ارلی انٹروینشن) 70 سے 80 فیصد تک مثبت نتائج دے سکتی ہے، بشرطیکہ مسئلہ بروقت پہچان لیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ “گولڈن پیریڈ” ضائع نہ کریں، کیونکہ جتنی جلدی علاج اور رہنمائی شروع ہوگی، بہتری کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔آخر میں یہی پیغام دیا گیا کہ ہر بچہ اپنی رفتار سے ترقی کرتا ہے، لیکن والدین کی آگاہی اور بروقت قدم ہی بچے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ اگر کسی بھی قسم کا شبہ ہو تو تاخیر نہ کریں اور ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لیں۔ اس موضوع پر آپ ڈاکٹر کی مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتے ہیں۔