ماہ رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی صدر مجلس علماء دکن نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات 19 فروری کو پہلا روزہ ہوگا۔ ہلال رمضان کے اعلان کےساتھ ہی مساجد سے سائزن کی آوزیں سنائیں دی۔ لوگ نماز تراویح اور سحری کا انتظام کرتے نظر آئے۔ رمضان کی پیش نظر حیدرآباد دکن کی تاریخی مساجد، خصوصاً مکہ مسجد اور دیگر عبادت گاہوں میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی روح پرور مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مساجد سے تراویح کی صدائیں گونج اٹھتی ہیں۔ قرآن کی تلاوت ہوگی اور شب بیداریوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ رمضان میں خصوصی عبادتوں کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔
رمضان میں رات بھر دکانیں کھلے رہیں گیں
حکومت تلنگانہ نے رمضان کے مہینے میں دکانیں اور کاروبار رات بھرکھلے کرنے کی اجازت دی ہے۔ کمشنر آف لیبر ایم دانا کشور نے محکمہ محنت اور ٹرانسپورٹ کے ساتھ میٹنگ کے بعد دکانیں صبح 5 بجے تک کھلی رکھنے کی ہدایت جاری کی۔نئے احکامات 19 فروری سے 20 مارچ 2026 تک نافذ عمل رہیں گے۔ تاجروں کو اپنے کاروبار کو صبح 5:00 بجے (سحری) تک جاری رکھنےکی اجازت دی گئی ہے۔ روزہ دار دن بھر روزہ رکھتے ہیں۔ اور افطار کے بعد رات کے ٹھنڈے اوقات میں محفوظ طریقے سے خریداری اور کھانا کھا سکیں۔
صبح 5 بجے کیوں کھلے رہیں گے کاروبار؟
صبح 5:00 بجے تک کی کاروبار کو توسیع دینے کا مقصد سحری کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ روایتی طور پر، اولڈ سٹی جیسے علاقوں میں "خریداری کا جنون" اور سماجی سرگرمی آدھی رات اور صبح کے درمیان ہوتی ہے۔ دکانوں کو صبح 5:00 بجے تک کھلا رہنے کی اجازت دے کر، حکومت روزہ دار شہریوں کے مذہبی طرز زندگی کی تائید کرتی ہے اور مقامی تاجروں کے لیے ایک اہم اقتصادی ونڈو فراہم کرتی ہے۔
تلنگانہ میں ایک روایت
حیدرآباد اور آس پاس کےعلاقوں میں اوقات میں توسیع کا رواج ایک دیرینہ روایت ہے، جس کا مقصد ریاست کے متحرک "نائٹ بازاروں" کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
تاریخی مرکز: چارمینار، لاڈ بازار، اور پتھر گٹی جیسے علاقے تاریخی طور پر رمضان کے دوران 24 گھنٹے کے مرکز کے طور پر کام کرتے ہیں، جو چوڑیوں اور عطروں سے لے کرروایتی لباس تک ہر چیز کے لیے "خریداروں کی جنت" بن جاتے ہیں۔
ثقافتی فیوژن: روایت صرف تجارت سے زیادہ ہے۔ یہ حیدرآبادی ثقافت کا جشن ہے جہاں حلیم کی خوشبو، ایرانی چائے کا ذائقہ، اور سڑک پر دکانداروں کی آوازیں ایک منفرد تہوار کا ماحول بناتی ہیں جو شہر بھر سے آنے والوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
اقتصادی اثر: بہت سے چھوٹے ہاکروں اور موسمی دکانداروں کے لیے، یہ ماہانہ چھوٹ سال کا سب سے زیادہ منافع بخش دور ہے، جس سے وہ غروب آفتاب کے بعد سڑکوں پر جمع ہونے والے بڑے ہجوم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ملازمین کے لیے سخت حفاظتی انتظامات
ان توسیع شدہ اوقات کے دوران افرادی قوت کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے درج ذیل شرائط کو لازمی قرار دیا ہے:
منصفانہ تنخواہ: اوور ٹائم کام کرنے والے ملازمین کو روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے پر اپنی عام اجرت دوگنی ملنی چاہیے۔
آرام کی مدت: اسٹاف آف ڈے پر کام کے لیے معاوضہ کی تعطیلات کا حقدار ہے، اور کام کے کل وقت پر 13 گھنٹے کی "اسپریڈ اوور" کی حد۔
خواتین کی حفاظت: ایک سخت حفاظتی اقدام میں، خواتین ملازمین کو رات 8:30 بجے کے بعد کام کرنے سے منع کیا گیا ہے اور انہیں چھٹیوں کی اضافی شفٹوں سے مستثنیٰ ہے۔
رمضان کی مبارکباد ،اور خصوصی پروگرام
اس مبارک اور مقدس مہینے کی آمد پر منصف ٹی ویhttps://www.youtube.com/@Munsif-TV-LIVEکے ناظرین اورمنصف ٹی وی ڈاٹ کم https://munsiftv.com/کے قارئین اور عالمِ اسلام، ملک کے تمام اہلِ ایمان کو رمضان المبارک کی دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی جاتی ہے۔ منصف ٹی وی کی جانب سے رمضان میں خصوصی پروگرام، رونق رمضان ، سحری ٹائمز، افطار ٹائمز، فیضان رمضان، رمضان اورخواتین، فرمائش نعت اور دیگر کئی پروگرام پیش کئے جائیں گے۔