آج کے دور میں کمر درد اور ریڑھ کی ہڈی کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر اُن افراد میں جو گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ اسپائن سرجری کا نام سنتے ہی اکثر لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور مختلف غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں، جیسے کہ سرجری کے بعد چل نہیں سکیں گے یا مکمل صحت یابی ممکن نہیں ہوگی۔ ماہرین کے مطابق یہ تصورات زیادہ تر بے بنیاد ہیں۔
حیدرآباد کے کم سن شائن ہاسپٹل، بیگم پیٹ کے سینئر کنسلٹنٹ اسپائن سرجن ڈاکٹر ہمانشو آر پرساد نے منصف ٹی وی کےخاص پروگرام ہیلتھ اور ہم میں شرکت کی ۔ انھوں نے اسپائن سرجری پر کھل کر بات کی۔ ڈاکٹر ہمانشو آر پرساد کے مطابق اسپائن انسانی جسم کا نہایت اہم حصہ ہے جو ہماری روزمرہ سرگرمیوں کے لیے بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ریڑھ کی ہڈی مضبوط ہو تو انسان آسانی سے چل پھر سکتا ہے، بیٹھ سکتا ہے اور کام انجام دے سکتا ہے۔ تاہم سلِپ ڈسک، انفیکشن، فریکچر یا اسکولیوسس جیسے مسائل زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق ہر سلپ ڈسک کے مریض کو سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تقریباً 90 سے 95 فیصد کیسز ادویات، فزیوتھراپی، مناسب ورزش اور درست طرزِ زندگی سے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں۔ سرجری صرف اُن صورتوں میں تجویز کی جاتی ہے جب اعصاب پر شدید دباؤ ہو، کمزوری بڑھ رہی ہو، پیشاب پر کنٹرول متاثر ہو یا ریڑھ کی ہڈی کا توازن بگڑ رہا ہو۔
اکثر مریضوں کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا اسپائن سرجری محفوظ ہے؟ ڈاکٹر ہمانشو کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، بہتر تربیت اور منیمم اِنویسیو (کم چیرا) تکنیکوں کی بدولت آج کل اسپائن سرجری پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہو چکی ہے۔ کئی مریض سرجری کے اگلے ہی دن چلنا شروع کر دیتے ہیں اور دو سے تین دن میں گھر جا سکتے ہیں۔
منیمم اِنویسیو اور اینڈوسکوپک سرجری میں بڑے چیرا لگانے کے بجائے چھوٹے سوراخوں کے ذریعے آپریشن کیا جاتا ہے، جس سے پٹھوں کو کم نقصان پہنچتا ہے، درد کم ہوتا ہے اور صحت یابی کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ تاہم ہر مریض کے لیے ایک جیسی تکنیک مناسب نہیں ہوتی، اس لیے ماہر سرجن کی رہنمائی ضروری ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ غلط طرزِ زندگی، طویل وقت تک بیٹھنا، خراب پوسچر، وٹامن ڈی اور بی 12 کی کمی، تمباکو نوشی اور کمزور غذائیت اسپائن مسائل کے اہم اسباب ہیں۔ ہر 30 سے 45 منٹ بعد کرسی سے اٹھ کر اسٹریچنگ کرنا، کمپیوٹر کو آنکھوں کی سطح پر رکھنا اور باقاعدہ ورزش کرنا کمر درد سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر ہمانشو کے مطابق اصل خطرہ سرجری نہیں بلکہ بیماری کو نظرانداز کرنا ہے۔ اگر اعصاب طویل عرصے تک دباؤ میں رہیں تو مکمل بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج مریض کو معمول کی زندگی کی طرف جلد واپس لا سکتا ہے۔نتیجتاً کہا جا سکتا ہے کہ اسپائن سرجری سے متعلق پائے جانے والے زیادہ تر خدشات غلط فہمیوں پر مبنی ہیں۔ درست معلومات، بروقت علاج اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے نہ صرف سرجری سے بچا جا سکتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر محفوظ اور کامیاب علاج بھی ممکن ہے۔اس موضوع پر ڈاکٹر کی مکمل بات چیت یہاں دیکھئے۔