حیدرآباد میں کانگریس پارٹی نے جمعہ کو ایک احتجاج منعقد کیا۔ اس احتجاج میں بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) کے صدر کے چندر شیکھر راؤ سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ چھوڑنے کی مانگ کی۔ احتجاجیوں کا کہنا کہ کے سی آر تلنگانہ ریاستی قانون ساز اسمبلی سے طویل عرصے تک غیر حاضری کی وجہ سے قائد اپوزیشن کی حیثیت سے استعفیٰ د ینا چاہئے۔ وہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوچکےہیں۔ اس لئے بی آر ایس چیف سے استعفیٰ دینے کی مانگ کی ہے۔
گاندھی بھون سے گن پارک تک ریلی
خیریت آباد ضلع کانگریس کمیٹی نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس میں سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔یہ ریلی گاندھی بھون سے گن پارک تک نکالی گئی، مظاہرین کےسی آر سے احتساب اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔مظاہرین نے ایک بڑا پوسٹر اٹھا رکھا تھا جس میں کے سی آر کو 'کمبھ کرن' کے طور پر دکھا نے کی کوشش کی گئی۔
سرکاری خزانہ سے 21 کروڑ خرچ
انہوں نے الزام لگایا کہ کے سی آر نے اپنے فارم ہاؤس میں رہتے ہوئے اور اسمبلی میں شرکت نہیں کرتے ہوئے تنخواہ کی مد میں 1.32 کروڑ روپے حاصل کئے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ خزانے سے 21 کروڑ روپے ان کی سیکیورٹی اور بلٹ پروف گاڑیوں پر خرچ کیے گئے۔کانگریس لیڈروں نے نعرہ لگایا، 'فارم ہاؤس میں 1000 دن - پھر بھی دفتر میں کیوں؟'
اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے پر دیا زور
خیریت آباد ڈی سی سی کے صدر موتھا روہت نے کہا کہ کانگریس نے اقتدار میں ایک ہزار دن مکمل کر لیے ہیں، لیکن قائد حزب اختلاف کے سی آر تلنگانہ میں نظر نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ تلنگانہ کے عوام نے انہیں قائد حزب اختلاف کا ذمہ دار عہدہ دیا ہے لیکن وہ 1000 دنوں تک اپنی ذمہ داریوں سے دور رہے۔انہوں نے ریمارک کیا کہ کے سی آر اپنے فارم ہاؤس میں سو رہے ہیں اور مطالبہ کیا کہ وہ باہر آئیں اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں۔
دلت کواپوزیشن لیڈر بنانےکی مانگ
کانگریس لیڈر اندرا شوبھن نے کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ کسی دلت لیڈر کو سونپ دیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست بننے سے پہلے اور کے سی آر نے چیف منسٹر بننے سے پہلے کسی دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان 10 سالوں میں کبھی کوئی دلت وزیراعلیٰ نہیں بنا اور خود کے سی آر اس عہدہ پر فائز رہے، اب اپوزیشن لیڈر کا عہدہ کسی دلت ایم ایل اے کو سونپ دیں۔ ایسا کرنے کے بعد ہم سے سوال کریں، ہم سنیں گے۔ ورنہ آپ کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
تلنگانہ عوام سے معافی مانگیں اور جواب دیں
"ان 1,000 دنوں کے دوران، آپ نے تلنگانہ کے لوگوں کی محنت سے کمائی ہوئی رقم سے 1,20,40,000 روپے تنخواہ کے طور پر حاصل کیے۔ آپ کے ذاتی اخراجات، آپ کی شان و شوکت اور آپ کے عیش و عشرت کے لیے — چار کاریں، 57 ملازمین، اور آپ کے نندی نگر کے گھر اور آپ کے فارم ہاؤس کے درمیان آگے پیچھے سفر کرنے کے لیے آپ نے 4 کروڑ روپے عوامی رقم خرچ کی۔ اس لیے آپ کو معافی مانگنی چاہیے ورنہ تلنگانہ کے لوگ آپ کو مناسب جواب دیں گے۔
کے ٹی آر کو دیا گیا مشورہ
اندرا شوبھن نے کہا کہ کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کو اپنے والد سے کہنا چاہئے کہ جب آپ اپوزیشن لیڈر کا درجہ رکھتے ہیں تو آپ کو عوام کے لئے کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ بی سی بل پر بحث کے لیے اسمبلی میں نہیں آئے، آپ ایس سی کی درجہ بندی کے لیے نہیں آئے، نہ ہی کسانوں کے مسائل، بجلی کے مسائل، یا بجٹ اجلاس کے دوران بھی۔‘‘کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 1000 دنوں میں کے سی آر نے صرف تین دن اسمبلی میں شرکت کی۔
7ستمبر سے اسمبلی اجلاس
تلنگانہ قانون ساز اسمبلی سیشن کا سات ستمبر سے آغاز ہوگا۔ اس اجلاس میں الیکشن میں حصہ لینے کی عمر کو اکیس تک کرنے کے تعلق سے بل کو پیش کیا جائے گا اور مختلف موضوعات پر مبحث ہونگے۔ برسراقتدار حکومت کے لیے ایک زبردست سیاسی اور اسٹریٹجک امتحان بن رہے ہیں۔ مسلسل عوامی مظاہروں، گہری بیٹھی انتظامی رکاوٹوں اور سنگین قانونی پیچیدگیوں کے پس منظر میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے، حکومت خود کو ایک غیر یقینی حالت میں پاتی ہے۔
بی آرایس، قانون سازوں کا اجلاس طلب
ادھر بی آر ایس چیف کے سی آر نے 07 ستمبر سے شروع ہونے والے ریاستی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے پس منظر میں بی آر ایس پارٹی قانون ساز پارٹی کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تناظر میں پارٹی کے قانون سازوں اور قانون ساز کونسل کے ارکان کا ایک مشترکہ اجلاس 06 ستمبر کو ایراولی کی رہائش گاہ پر دوپہر ایک بجے دوپہر کے کھانے کے بعد اور کے سی آر کی قیادت میں دوپہر 2 بجے پارٹی لیڈر وں کا اجلاس ہوگا۔
بی آر ایس سربراہ کے سی آر نے پارٹی ایم ایل اے اور ایم ایل سی کو اس میٹنگ میں شرکت کا مشورہ دیا ہے۔ کے سی آر اس میٹنگ میں آنے والے اسمبلی اجلاسوں میں اپنائی جانے والی حکمت عملیوں اور عوامی مسائل پر حکومت کا سامنا کرنے والے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے اور پارٹی صفوں کو سمت دیں گے۔