بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان اسے کم کرنے کی بجائے اپنی مذموم حرکتوں سے باز نہیں آ رہا۔ پاکستان نے ایک بار پھر جنگ بندی معاہدےکی خلاف ورزی کی ہے۔ جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی جانب سے شدید فائرنگ کی جا رہی ہے جس کا بھارتی فوج بھی منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ ایل او سی کے پار پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانے کی اطلاعات ہیں۔ بھارتی جوابی کارروائی میں کچھ افراد کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ کنٹرول لائن پر تقریباً تمام مقامات پر فائرنگ ہو رہی ہے۔ تاہم، پونچھ، کپوارہ، اکھنور اور اُڑی جیسے علاقوں کو پاکستان نے سب سے زیادہ نشانہ بنایا ہے۔
اس بیچ آج جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جموں جارہےہیں ۔ عمر عبداللہ یہاں تازہ صورتحال کا جائزہ لینگے۔وہیں جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تمام اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو احتیاطی اقدام کے طور پر دو دن کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔جس کے چلتے آج بھی یہان کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ کشمیر میں سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان معمول کی زندگی جاری ہے۔
جموں و کشمیر میں کل رات کو ایک بار پھر بلیک آؤٹ رہا ، اور سائرن مسلسل بجتے رہے۔جموں کے حساس علاقوں میں دوبارہ بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا تھا۔ کئی حساس علاقوں میں سائرن کی آوازیں گونج رہی تھیں۔پاکستان کی طرف سے فائرنگ کے بعد جموں کے علاقے میں ایک بار پھر بلیک آؤٹ کیا گیا تھا۔ نہ صرف جموں بلکہ جموں ڈویژن کے راجوری، پونچھ اور سانبہ میں بھی بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا تھا۔
اسکے علاوہ کل جموں اور کشمیر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب جموں، پٹھان کوٹ اور ادھم پور کے فوجی اسٹیشنوں کو پاکستان نےمیزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ہندوستانی افواج نے پیشتر میزائل اور ڈرون کو مار گرایا۔ہیڈکوارٹر انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف نے ایک پوسٹ میں کہا، "کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ۔لوگوں میں خوف ہے لیکن لوگوں کے حوصلے بلند ہیں ان کا کہنا کہ ہماری فو ج پوری طرح سے مقابلہ کررہی ہے اور منھ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔فی الحال پٹھان کوٹ میں زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔