امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے بیچ یورپی یونین نے ایران کے پاسداران انقلاب کو القاعدہ، داعش اور حماس کے ساتھ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ 29 جنوری جمعرات کو لیا گیا۔ یورپی یونین نے آئی آر جی سی کے اعلیٰ کمانڈروں اور دیگر 15 اعلیٰ حکام کے یورپ میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس نے کہا کہ آئی آر جی سی نے احتجاج کے دوران 6,373 افراد کو ہلاک کیا ہے۔ انہوں نے کہا، اگر آپ دہشت گرد کی طرح کام کرتے ہیں، تو آپ کے ساتھ دہشت گرد جیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔وہیں ایران نے اس کاروائی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایران کی مسلح افواج نے یورپی یونین کے اس فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ایران کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام ’امریکا اور صہیونی حکومت کی بالادست اور غیر انسانی پالیسیوں کی اندھی تقلید‘ کے تحت کیا گیا ہے۔یہ غیر ذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی‘ اقدام ہے۔انہوں نے غزہ میں اسرائیلی قتل عام کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔
یورپی یونین نے یہ اقدام ایران میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے جواب میں کیا جس میں ہزاروں مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس نے کہا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے متفقہ طور پر اس عہدہ پر اتفاق کیا۔ کاجا کالس نے کہا کہ اگر آپ (IRGC) ایک دہشت گرد کی طرح کام کرتے ہیں تو آپ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے IRGC کو یورپی یونین (EU) سے پہلے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ 2019 میں، امریکہ نے IRGC کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ امریکہ نے IRGC پر دہشت گردی کی حمایت، علاقائی فوجی کاروائیوں میں حصہ لینے اور امریکہ مخالف گروپوں اور حزب اللہ اور حماس جیسے عناصر کی حمایت کا الزام لگایا۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب ایران کی مسلح افواج کا ایک اہم حصہ ہے جسے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد قائم کیا گیا تھا، یہ باقاعدہ فوج کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اور براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ کسی بھی وقت ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ ایران اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ جمعرات کو، ایران نے سمندر میں موجود بحری جہازوں کو خبردار کیا کہ وہ اگلے ہفتے ایک مشق کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں براہ راست فائرنگ شامل ہوگی۔ ایرانی فوجی سربراہ نے بھی واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی حملے کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔