بھارت کی دارالحکومت دہلی میں لال قلعہ کے قریب گزشتہ سال 10 نومبر کو کار بم دھماکہ ہوا، جس میں تقریباً 13 سے 15 افراد ہلاک ہوئے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں نے اسے ایک دہشت گرد حملہ قرار دیا۔ اس حملے کے بعد ملک بھر سے سیکیورٹی ایجنسیوں نے متعدد افراد کو حراست میں لیا۔ اس حملے کے نتیجے میں مشہور الفلاح یونیورسٹی سرخیوں میں آ گئی، کیونکہ لال قلعہ کار بم دھماکہ کرنے والے خودکش حملہ آور عمر ان نبی کا تعلق الفلاح یونیورسٹی سے بتایا گیا۔
الفلاح یونیورسٹی کےچیئرمین کو مشکلات کا سامنا:
سیکیورٹی ایجنسیوں اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے الفلاح یونیورسٹی سے منسلک متعدد مقامات پر چھاپے مارے اور یونیورسٹی کی فنڈنگ وغیرہ کی تفصیلی جانچ کی۔ اسی سلسلے میں الفلاح یونیورسٹی سے جڑے منی لانڈرنگ کیس میں ساکیت کورٹ نے ای ڈی کی چارج شیٹ پر سماعت شروع کر دی ہے۔ یہ کیس ہریانہ کے فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی سے متعلق ہے۔ اس کیس میں الفلاح گروپ کے چیئرمین جواد احمد صدیقی اور الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ ملزم ہیں۔
کیا ہے الزام؟
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جنوری 2026 میں ساکیت کورٹ میں یہ چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ صدیقی اور ٹرسٹ نے یونیورسٹی اور اس سے منسلک اداروں کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے پیسے جمع کیے۔ جانچ میں جعلی نیشنل اسیسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) کی منظوری دکھا کر طلبہ سے فیس وصول کرنے، سرکاری ایجنسیوں کو گمراہ کرنے، جعلی ڈاکٹروں کی تقرری اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے ثبوت ملے ہیں۔
اس کیس کی ابتدا نومبر 2025 میں دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہوئے کار بم دھماکے سے جڑی جانچ سے ہوئی تھی، جس میں یونیورسٹی کے کچھ لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ ای ڈی نے اس کے بعد یونیورسٹی کی تقریباً 140 کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کی، جس میں 54 ایکڑ زمین اور عمارتیں شامل ہیں۔
ساکیت کورٹ میں حال ہی میں اس چارج شیٹ پر سماعت ہوئی۔ جاوید احمد صدیقی کے وکیل نے دستاویزات کی جانچ اور تیاری کے لیے وقت مانگا۔ کورٹ نے اس پر غور کرتے ہوئے کیس کو مزید بحث کے لیے لسٹ کر دیا ہے۔ ساتھ ہی صدیقی کی عدالتی حراست میں توسیع کرتے ہوئے اگلی سماعت کی تاریخ 13 فروری مقرر کی گئی ہے۔
یہ کیس منی لانڈرنگ روک تھام ایکٹ (PMLA) کے تحت چل رہا ہے۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ صدیقی نے ٹرسٹ اور یونیورسٹی پر مکمل کنٹرول رکھا اور غیر قانونی کمائی کا مرکزی فائدہ اٹھانے والا رہا۔ جانچ میں کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی اور طلبہ کے ساتھ فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ اگلی سماعت میں چارج شیٹ پر سماعت، الزامات طے کرنے اور ثبوتوں پر بحث ہونے کی توقع ہے۔