Friday, August 21, 2026 | 06 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ میں ہلچل، چوری پکڑے جانے کے خوف سے پرنسپل کا قتل؟

تلنگانہ میں ہلچل، چوری پکڑے جانے کے خوف سے پرنسپل کا قتل؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 21, 2026 IST

تلنگانہ میں ہلچل، چوری پکڑے جانے کے خوف سے پرنسپل کا قتل؟
تلنگانہ کے نلگنڈہ ضلع میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں چوری کی نیت سے گھر میں داخل ہونے والے 10ویں جماعت کے دو طالب علموں نے پہچانے جانے کے خوف سے اپنے ہی اسکول کی 48 سالہ پرنسپل اور ڈائریکٹر روپا ریڈی کو مبینہ طور پر چاقو کے 27 وار کرکے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق دونوں طالب علموں نے مبینہ طور پر واردات کی پہلے سے منصوبہ بندی کی تھی اور واردات سے تقریباً پانچ دن قبل پرنسپل کے گھر میں چوری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
 
چوری کے لیے پہلے سے کی گئی تیاری
 
تحقیقات کے مطابق دونوں طالب علموں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے مبینہ طور پر چاقو، دستانے اور ماسک  خریدے تھے۔ واردات کے روز ایک طالب علم دستانے اور چہرہ ڈھانپنے والی ماسک پہن کر روپا ریڈی کے گھر میں داخل ہوا، جبکہ دوسرا باہر رہ کر نگرانی کر رہا تھا۔ پولیس کے مطابق گھر میں داخل ہونے کے بعد ملزم نے بیڈ روم سے تقریباً 2.50 لاکھ روپے نقد اٹھائے اور وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی۔
 
ماسک  ہٹا اور پرنسپل نے طالب علم کو پہچان لیا
 
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہوتے وقت ملزم کے چہرے سے ماسک  پھسل گیا، جس کے باعث روپا ریڈی نے اسے مبینہ طور پر پہچان لیا۔ وہ اسے اپنے اسکول کے طالب علم کے طور پر جانتی تھیں۔ شناخت ظاہر ہونے کے خوف سے ملزم نے مبینہ طور پر پرنسپل پر چاقو سے 27 مرتبہ حملہ کیا۔ حملے کے بعد دونوں طالب علم نقد رقم لے کر موقع سے فرار ہو گئے۔
 
ایک لفظ نے پولیس کو طالب علموں تک پہنچایا
 
قتل کی تحقیقات کے دوران پولیس کو ایک اہم سراغ ملا۔ واقعے سے کچھ دیر قبل روپا ریڈی اپنی خالہ سے فون پر بات کر رہی تھیں اور گفتگو کے دوران انہوں نے کسی شخص کو ’بابو‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ پولیس کے مطابق روپا ریڈی اپنے طلباء کو بھی پیار سے ’بابو‘ کہہ کر بلاتی تھیں۔ اسی سراغ نے تفتیش کاروں کا شک اسکول کے طلباء کی جانب موڑ دیا۔ پولیس نے اس بنیاد پر 10ویں جماعت کے دو طالب علموں سے پوچھ گچھ شروع کی۔ تفتیش کے دوران دونوں سے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف حاصل ہوا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
 
واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے
 
اس واقعے نے نہ صرف علاقے بلکہ تعلیمی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ پولیس اب قتل کے تمام پہلوؤں، واردات کی منصوبہ بندی اور دونوں طالب علموں کے کردار کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ واقعے نے یہ سوال بھی کھڑا کیا ہے کہ کم عمر طلباء آخر کس طرح ایک سنگین جرم کی منصوبہ بندی تک پہنچے اور انہیں اس کے نتائج کا اندازہ کیوں نہیں تھا۔ پولیس کی مکمل تفتیش کے بعد ہی واقعے کی تمام تفصیلات واضح ہو سکیں گی۔