Tuesday, February 03, 2026 | 15, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • دو برطانوی سیاحوں کو فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت میں اسٹیکر چسپاں کرنے پر بھارت چھوڑنے کا حکم

دو برطانوی سیاحوں کو فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت میں اسٹیکر چسپاں کرنے پر بھارت چھوڑنے کا حکم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Feb 03, 2026 IST

دو برطانوی سیاحوں کو  فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت میں اسٹیکر چسپاں کرنے پر بھارت چھوڑنے کا حکم
راجستھان پولیس کی کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے دو برطانوی شہریوں کو پشکر میں عوامی مقامات پر فلسطین کی حمایت  اور اسرائیل کے مخالفت میں اسٹیکرچسپاں کرنے کے الزام میں بھارت چھوڑنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔اسٹیکر پر لکھا تھا: فری فلسطین، بوائیکاٹ اسرائیل۔
 
 یہ واقعہ 21 جنوری کو سامنے آیا جب مقامی افسران نے عوامی جگہوں پر یہ اسٹیکر دیکھے۔ اس کے بعد سی آئی ڈی کی ٹیم نے تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ 36 سالہ ان دونوں سیاحوں نے یہ  اسٹیکر لگائے۔
 
سی آئی ڈی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیش مینا نے ان افراد کی شناخت ڈی (36) اور انوئیشی ایما کرسٹین (36) کے طور پر کی ہے۔ دونوں سیاح ٹورسٹ ویزا پر بھارت آئے تھے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ان کے اقدامات ٹورسٹ ویزا کی شرائط کے تحت سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے زمرے میں آتے ہیں، جو ممنوع ہے۔
 
سیاحتی ویزہ پر دوسرے ممالک کی توہین کرنے والی سرگرمیاں کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سی آئی ڈی کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیش مینا نے کہا، بھارتی سرزمین پر دوسرے ممالک کی توہین کرنے والی سرگرمیاں ویزہ کے واضح خلاف ہیں۔
 
اس لیے امیگریشن اور غیر ملکیوں کے قانون کے تحت سی آئی ڈی نے انہیں فوری طور پر بھارت چھوڑنے کا نوٹس دیا۔
 
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پشکر اسرائیلی سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ ہر سال تقریباً 10,000 سے 11,000 اسرائیلی سیاح یہاں آتے ہیں۔ شہر میں ہر وقت تقریباً 2,000 اسرائیلی موجود رہتے ہیں اور بہت سے چاباد سے منسلک جگہوں پر جاتے ہیں۔ چاباد ایک یہودی تنظیم ہے جس کے دنیا بھر میں کمیونٹی سینٹر ہیں جنہیں چاباد ہاؤس کہتے ہیں۔
 
واضح رہے کہ فلسطین کی آزادی کا عالمی مطالبہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں 7 اکتوبر کے بعد جاری نسل کشی کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں 70,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔