اتر پردیش کےغازی آباد میں گزشتہ دنوں ہندو رکشا دل کی جانب سے ہتھیار تقسیم کیے جانے کے معاملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی مسلسل جاری ہے۔ غازی آباد کے تھانہ شالی مار گارڈن پولیس نے اس معاملے میں ہندو رکشا دل کے قومی صدر پنکی چودھری اوران کے بیٹے ہرش کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے چند دن پہلے تلواریں تقسیم کی تھیں۔ اب شالی مارگارڈن پولیس نے دونوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
دراصل یہ پورا معاملہ غازی آباد کے تھانہ شالی مار گارڈن علاقے کا ہے، جہاں ہندو رکشا دل کے لوگوں نے تلواروں کے ساتھ طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران نہ صرف ہتھیاروں کی نمائش کی گئی بلکہ عام لوگوں میں ہتھیار بھی تقسیم کیے گئے۔ ہتھیار دیتے وقت لوگوں سے کہا گیا کہ جہادیوں سے حفاظت کے لیے اسے اپنے گھر میں رکھیں، اور اگر کوئی بہن یا بیٹی پر بری نظر ڈالے تو اس کا استعمال کریں۔
پولیس پہلے ہی 10 افراد کو گرفتار کر چکی ہے
جب پولیس کو ہندو رکشا دل کی جانب سے ہتھیاروں کی نمائش اور تقسیم کی اطلاع ملی تو اس نے فوری کارروائی شروع کی۔ پولیس افسران اس معاملے میں پہلے ہی 10 افراد کو گرفتار کر چکے ہیں۔ اب اسی کیس میں تھانہ شالی مار گارڈن پولیس نے مزید دو گرفتاریاں کی ہیں۔
چندرشیکھر آزاد کا حکومت پر حملہ
قابلِ ذکر ہے کہ شالی مار گارڈن علاقے میں ہتھیار تقسیم کیے جانے کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے بھی ریاست کی قانون و انتظام کی صورتحال کو لے کر حکومت پر سخت تنقید کی تھی۔ نگینہ سے رکنِ پارلیمنٹ اور آزاد سماج پارٹی کے قومی صدر چندرشیکھر آزاد نے اس معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
نگینہ کے ایم پی نے کہا کہ آج اس ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ تلواریں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ ایک مخصوص طبقے کے خلاف جذباتی نعرے لگا کر ایک سماج کو اکٹھا کیا جا رہا ہے اور تشدد کی کوشش کی جا رہی ہے، لوگوں کو بھڑکایا جا رہا ہے، لیکن بہری اور گونگی حکومت کو کچھ نظر نہیں آ رہا۔