امریکہ نے فوری طور پر10 فیصد عالمی ٹیریف نافذ کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ یہ ٹیریف تب تک نافذ رہے گا جب تک کوئی دوسرا قانونی اختیار لاگو نہیں ہوتا۔ اس نئی ترتیب کے تحت بھارت بھی 10 فیصد ٹیریف دینے والے ممالک میں شامل ہے۔ اہلکار نے واضح کیا کہ بھارت کو بھی 10 فیصد ٹیریف دینا ہوگا، اور یہ IEEPA کے تحت پہلے لگائے گئے محصولات کی جگہ لے گا۔ انہوں نے تمام تجارتی شراکت داروں کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدوں کی تعمیل کرنے کی بھی ہدایت دی۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ٹرمپ انتظامیہ پر اثر
ANI کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے 6-3 کی اکثریت سے ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا دیا۔ عدالت نے کہا کہ 1977 کے IEEPA قانون کے تحت صدر کو وسیع پیمانے پر درآمدی محصولات عائد کرنے کا واضح اختیار نہیں ہے، اور یہ اختیار کانگریس کے پاس ہے۔
ٹرمپ کا ردعمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہسی خیز اور لڈکرس قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "عدالت نے کہا کہ میں IEEPA کے تحت 1 ڈالر بھی نہیں لے سکتا۔ میں تجارت بند کر سکتا ہوں، ملک کی تجارتی نظام ختم کر سکتا ہوں، لیکن 1 ڈالر ٹیکس نہیں لگا سکتا، یہ کتنا مضحکہ خیز ہے!" انہوں نے عدالت پر غیر ملکی مفادات سے متاثر ہونے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ دیگر ممالک اس فیصلے سے خوش ہیں، مگر زیادہ دیر تک نہیں۔
سیکشن 122 کے تحت نیا ٹیریف
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 122 کے تحت 10 فیصد عالمی ٹیریف لگانے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔ یہ قانون 150 دن تک 15 فیصد تک کا عارضی ٹیکس لگانے کی اجازت دیتا ہے، خاص طور پر بیلنس آف پیمنٹس خسارے کو کم کرنے کے لیے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ سیکشن 232 (قومی سلامتی) اور سیکشن 301 (غیر منصفانہ تجارتی رویے) کے تحت پہلے سے نافذ ٹیریف مکمل طور پر مؤثر رہیں گے۔
بھارت، امریکہ تجارتی تعلقات پراثر
ٹرمپ نے کہا کہ انڈیا ڈیل جاری ہے، جس میں متقابل ٹیریف کو 18 فیصد تک کم کیا گیا تھا، اور نئی قانونی کارروائی کے تحت یہ برقرار رہیں گے۔ تاہم، بھارت کے لیے یہ صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے کیونکہ 10 فیصد عالمی ٹیریف موجودہ محصولات کے اوپر لاگو ہوگی۔ اس سے برآمدات، خاص طور پر اسٹیل، ایلومینیم، آٹو پارٹس اور ٹیکسٹائل شعبے پر اثر پڑ سکتا ہے۔