اُتراکھنڈ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی قیادت والی پشکر سنگھ دھامی حکومت پر صوبے میں مسلمانوں اور ان کے مذہبی مقامات، مدرسوں کے خلاف یک طرفہ کاروائی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بڑے پیمانے پر مبینہ غیر قانونی مدرسوں، مزاروں، عیدگاہوں اور مساجد کو مسمار کر دیا گیا، جبکہ اسی سال دھامی حکومت نے اُتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔
اب ایک بار پھر مدرسوں کے حوالے سے پشکر سنگھ دھامی حکومت کے نئے سخت قوانین نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔دراصل، اُتراکھنڈ کی مائنارٹی اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ دفعہ14 کے تحت طے شدہ شرائط پوری کیے بغیر کسی بھی مدرسے کو مذہبی تعلیم دینے کی منظوری نہیں ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی تمام مدرسوں کو ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سے نئے سرے سے منظوری لینی ہوگی۔ اس فیصلے کے بعد صوبے بھر میں مدرسہ چلانے والے اور مسلمان کمیونٹی کے لوگ پریشان حال ہیں۔
مدرسہ چلانے والے اور نمائندے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت پر سوتیلا سلوک کا الزام لگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بغیر مناسب وقت اور واضح ہدایات کے ایسے قوانین تھوپنا تعلیمی نظام کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
نمائندوں کی میٹنگ میں معیار کی پابندی کی وارننگ دی گئی:
ہندوستان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق، ہفتہ (28 مارچ) کو اقلیتی فلاح و بہبود افسر جے ایس راوت نے مدرسہ چلانے والوں کی میٹنگ بلائی۔ اس میٹنگ میں مولانا افتخار، قاری شہزاد اور مولانا ریحان گنی سمیت کئی نمائندے موجود تھے۔ افسران نے واضح کیا کہ طے شدہ معیار کی پابندی سب کو کرنی ہوگی، ورنہ کاروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
صوبے میں 482 منظور شدہ مدرسے:
میڈیا رپورٹس کے مطابق، فی الحال پورے اُتراکھنڈ میں کل 482 منظور شدہ مدرسے چل رہے ہیں، جن میں 50 ہزار سے زیادہ طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دارالحکومت دہرادون میں 36 مدرسوں کو منظوری ملی ہوئی ہے۔ مدرسہ بورڈ کے ڈائریکٹر گردھاری سنگھ راوت نے دہرادون، ہریدوار، اودھم سنگھ نگر، نینیتال، الموڑا، پیتھورا گڑھ اور چمپاوت اضلاع سے اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کتنے مدرسے نئے معیار پر پورے اترتے ہیں۔
اُتراکھنڈ میں مدرسہ کھولنے کے لیے نئی لازمی شرائط:
دھامی حکومت کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا مقصد تعلیمی نظام کو زیادہ شفاف، جوابدہ اور منظم بنانا ہے۔ خاص طور پر مالی لین دین، اساتذہ کی اہلیت اور اداروں کے چلانے کے حوالے سے واضح ہدایات طے کی گئی ہیں۔ افسران نے یہ بھی کہا کہ مذہبی تعلیم کے نام پر کسی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔
دھامی حکومت کے نئے قوانین کے تحت مدرسوں کو درج ذیل شرائط کی پابندی کرنی ہوگی:
مدرسہ اقلیتی کمیونٹی کے ذریعے قائم اور چلایا جائے
مدرسہ تعلیم کونسل سے منسلک ہونا ضروری
سوسائٹی رجسٹرار کے پاس رجسٹریشن ضروری
ادارے کی زمین سوسائٹی کے نام پر درج ہو
تمام مالی لین دین سرکاری اکاؤنٹ سے ہی ہوں
سوسائٹی کے تمام اراکین اقلیتی کمیونٹی سے ہوں
طلبہ اور اساتذہ کو کسی بھی مذہبی سرگرمی میں حصہ لینے کے لیے مجبور نہ کیا جائے
مدرسوں میں صرف ڈگری یافتہ اساتذہ کی تقرری ہو
تعلیمی، انتظامی اور مالی معاملات میں کونسل اور اتھارٹی کے ہدایات نافذ ہوں
کوئی ایسا کام نہ ہو جس سے سماجی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہو۔
حکومت کی جانب سے یہ نئے ضوابط تعلیم کو مین اسٹریم میں لانے اور معیار بہتر بنانے کے نام پر قرار دیا جا رہا ہے۔