آج لوک سبھا کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس کے بعد حکومت نے کہا، 'ہم کل وقف ترمیمی بل لا رہے ہیں۔ اس بل پر بحث کے لیے کل لوک سبھا میں آٹھ گھنٹے کا وقت رکھا گیا ہے۔ اس بل پر بحث شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان واک آؤٹ کر گئے جبکہ سپیکر نے کہا کہ اگر ایوان اجازت دے تو اس بل پر بحث کا وقت بڑھایا جا سکتا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ کیتھولک چرچ نے اس بل کی حمایت کی ہے جو کہ خوشی کی بات ہے۔
کرن رجیجو نے یہ بات کہی:
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بتایا کہ میں اس بل کو کل سوالیہ وقت کے بعد لوک سبھا میں پیش کروں گا۔ اگر اپوزیشن ارکان اس معاملے پر بحث کے لیے وقت بڑھانا چاہتے ہیں تو ایوان کے احساس سے وقت بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ بل لوک سبھا میں پاس کر کے راجیہ سبھا کو بھیجا جائے گا اور یہ سیشن صرف 4 تاریخ تک ہے۔ اگر ضرورت ہو تو سیشن کو بڑھایا جا سکتا ہے۔
اس بل پر کل 12 بجے کے بعد ہوگی بحث :
این ڈی اے نے لوک سبھا میں اپنی تمام اتحادی جماعتوں کو ایک چیف وہپ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 2 اپریل کو اپنے تمام ممبران پارلیمنٹ کی ایوان میں موجودگی کو یقینی بنائیں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے یہ بھی کہا ہے کہ جن ممبران پارلیمنٹ کو وقف بل پر بحث کے دوران بولنے کا موقع ملے گا وہ بل کے اہم نکات پر بات کریں اور بولتے وقت تحمل کا مظاہرہ کریں۔ پرجوش نہ ہوں۔ اس بل پر بحث کل 12.15 بجے شروع ہوگی۔ آپ کو بتا دیں کہ کانگریس اس معاملے پر 12 گھنٹے کی بحث چاہتی تھی۔ حکومت کل وقف بل پر بحث کرے گی اور اپنا جواب دے گی اور کل ہی بل کو منظور کرائے گی۔
وقف بل کے حوالے سے اب تک کیا ہوا ہے؟
مرکزی حکومت نے گزشتہ سال 28 جولائی کو وقف (ترمیمی) بل 2024 پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کے سخت اعتراضات کے بعد اسے 8 اگست کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے پاس بھیج دیا گیا۔کمیٹی نے اس سال 30 جنوری کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو رپورٹ پیش کی۔اس کے بعد جے پی سی کی رپورٹ کی بنیاد پر مرکزی کابینہ نے بل میں تجویز کردہ 23 میں سے 14 تبدیلیوں کو منظوری دی۔جسے اب آئندہ کل 2 اپریل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جا ئیگا۔